تیمورخان
خیبرپختونخوااسمبلی میں سیکرٹری اسمبلی کے عہدے پراضافی چارج کی حالیہ تعیناتی نے ایک بار پھر میرٹ، ایڈہاک ازم اور مبینہ اقربا پروری سے متعلق سوالات کو جنم دے دیا۔ گریڈ 21 کے سینئر آفیسر کی موجودگی کے باوجود سید وقار شاہ کو سیکرٹری اسمبلی کا اضافی چارج دیے جانے کے فیصلے نے اسمبلی سیکرٹریٹ کے انتظامی ڈھانچے کو ایک بار پھر تنازع میں ڈال دیا ہے۔
سید وقار شاہ اس وقت گریڈ 21 کے افسر ہیں، تاہم مبینہ طور پر ان کی تعیناتی سے لے کر گریڈ 21 تک ترقی کا سفر مسلسل سوالات اور تنازعات کی زد میں رہا ہے۔ ان کا تعلق ضلع صوابی سے ہے اور وہ ماضی میں پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کے ملازم رہ چکے ہیں۔
سال 2013 میں سابق سپیکرصوبائی اسمبلی اسد قیصرنے سید وقار شاہ کو ڈیپوٹیشن پر اسپیشل سیکرٹری تعینات کیا۔ بعد ازاں 15 دسمبر 2014 کو انہیں گریڈ 19 میں اسپیشل سیکرٹری کی پوسٹ پر ضم کر دیا۔ تاہم یہ انضمام عدالت میں چیلنج ہوا، جس پر 13 نومبر 2018 کو عدالت نے فیصلہ سناتے ہوئے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دے دیا۔ عدالتی فیصلے کے بعد صوبائی اسمبلی نے 30 نومبر 2018 کو سید وقار شاہ کو ملازمت سے برخاست کر دیا۔
بعد میں 8 اور 9 مئی 2019 کو اسپیشل سیکرٹری کی اسامی دوبارہ مشتہر کی گئی، جس میں ایم بی اے ڈگری کو ترجیحی شرط کے طور پر شامل کیا گیا۔ چونکہ سید وقار شاہ ایم بی اے ہیں، اس لیے 11 اکتوبر 2019 کو انہیں ایک مرتبہ پھر اسپیشل سیکرٹری تعینات کر دیا گیا۔
فروری 2020 میں وفاقی حکومت کی جانب سے کروڑوں گھروں کی تعمیر کا ٹھیکہ حاصل کرنے والی نجی کمپنی کو صوبائی اسمبلی کی جانب سے کنسلٹنٹ/ایڈوائزر کے طور پر این او سی جاری کیا گیا، جس کے باعث سید وقار شاہ کے پاس بیک وقت دو ذمہ داریاں رہیں۔
29 اپریل 2020 کو اُس وقت کے اسپیکر مشتاق غنی نے غیر تسلی بخش کارکردگی پر سید وقار شاہ کو شوکاز نوٹس جاری کیا۔ 3 جون 2020 کو ذاتی سماعت کے بعد 7 اکتوبر 2020 کو انہیں ملازمت سے برخاست کر دیا گیا، تاہم 14 دسمبر 2020 کو انہیں دوبارہ بحال کر دیا گیا۔ بحالی کے اگلے ہی روز 15 دسمبر 2020 کو انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ فار پارلیمانی سروسز ( پی آئی پی ایس ) میں ڈپٹی ریسرچ/ٹریننگ کے لیے ڈیپوٹیشن پر بھیج دیا گیا، جبکہ اس وقت اسد قیصر قومی اسمبلی کے اسپیکر تھے۔ بعد ازاں 2 فروری 2021 کو انہیں ڈی جی ریسرچ، پی آئی پی ایس مقرر کر دیا گیا۔
18 اگست 2023 کو سید وقار شاہ کو دوبارہ صوبائی اسمبلی بھیج دیا گیا، جبکہ 19 دسمبر 2023 کو انہیں ڈائریکٹر انٹر پروونشل ریلیشنز صوبائی اسمبلی تعینات کیا گیا۔
اسپیکر مشتاق غنی کے دور میں اسمبلی ملازمین سے متعلق 2007 کی پالیسی میں ترامیم کی گئیں، جس کے تحت سیکرٹری اور اسپیشل سیکرٹری کے عہدوں کی تعریف واضح کی گئی۔ پالیسی کے مطابق سیکرٹری وہ افسر تصور ہوتا ہے جو اسسٹنٹ، ڈپٹی اور اسپیشل سیکرٹری کے عہدوں پر خدمات انجام دے چکا ہو، جبکہ اسپیشل سیکرٹری کے لیے اسسٹنٹ اور ڈپٹی سیکرٹری کا تجربہ لازمی قرار دیا گیا۔
بعد ازاں بابر سلیم سواتی کے اسپیکر بننے کے بعد 27 مئی 2024 کو سید وقار شاہ سے دوبارہ ارائیول لی گئی، جو گریڈ 20 میں ظاہر کی گئی، جبکہ 17 جنوری 2025 کو انہیں گریڈ 21 میں ترقی دے دی گئی۔
اس وقت صوبائی اسمبلی میں گریڈ 21 کے سینئر ترین اسپیشل سیکرٹری انعام اللہ موجود ہیں، تاہم انہیں نظر انداز کرتے ہوئے اسمبلی سیکرٹریٹ نے 16 جنوری کو سید وقار شاہ کو سیکرٹری اسمبلی کا اضافی چارج دینے کا نوٹیفکیشن جاری کر دیا۔
اس معاملے پر رابطہ کرنے پر سید وقار شاہ نے مؤقف اختیار کیا کہ ان کی تعیناتی مکمل طور پر میرٹ پر ہوئی ہے۔ ان کے مطابق انہوں نے اسمبلی میں کرپشن کے خلاف اقدامات کیے، غیر حاضر ملازمین کے لیے بایومیٹرک سسٹم متعارف کرایا اور بہتر کارکردگی کی بنیاد پر انہیں اضافی چارج دیا گیا۔