افغان طلبہ کو ایچ ای سی سے اسناد کی تصدیق میں رکاوٹیں، پی او آر اور اے سی سی کارڈز مسترد

افغانستان واپس جانے والے افغان طلبہ کو ہائر ایجوکیشن کمیشن (ایچ ای سی) سے اپنی تعلیمی اسناد کی تصدیق کے عمل میں شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ متاثرہ طلبہ کے مطابق، انہیں افغان مہاجرین کی وطن واپسی سے قبل پی او آر اور اے سی سی کارڈز کی بنیاد پر پاکستانی جامعات میں داخلے دیے گئے تھے، مگر اب انہی دستاویزات پر ڈگریوں کی تصدیق سے انکار کیا جا رہا ہے۔

طلبہ کا کہنا ہے کہ ایچ ای سی حکام انہیں مطلع کرتے ہیں کہ پی او آر اور اے سی سی کارڈز پر اسناد کی تصدیق کا عمل بند کر دیا گیا ہے اور اب صرف پاسپورٹ کی بنیاد پر تصدیق ممکن ہے۔ ان کا مؤقف ہے کہ انہوں نے جامعہ پشاور سمیت مختلف پاکستانی تعلیمی اداروں میں انہی دستاویزات پر تعلیم حاصل کی، امتحانات دیے اور ڈگریاں حاصل کیں، جو اس وقت قابلِ قبول تھیں۔

یہ مسئلہ ایسے وقت میں شدت اختیار کر گیا ہے جب حکومت پاکستان افغان شہریوں کو وطن واپسی کی ہدایت دے رہی ہے۔ طلبہ کے مطابق، ایچ ای سی کی تصدیق کے بغیر ان کی ڈگریاں افغانستان یا دیگر ممالک میں قابلِ استعمال نہیں رہتیں، جس سے ان کی تعلیم اور روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں۔

بیشتر طلبہ کے پاس افغان پاسپورٹ موجود نہیں کیونکہ انہوں نے اپنی تعلیمی زندگی پاکستان میں مہاجر دستاویزات پر گزاری۔ انہوں نے ایچ ای سی اور حکومت پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ پالیسی پر نظرثانی کرتے ہوئے اسناد کی تصدیق انہی دستاویزات پر کی جائے جن کی بنیاد پر داخلے اور ڈگریاں جاری کی گئی تھیں، تاکہ ہزاروں طلبہ کا مستقبل متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے