پاکستان میں پانی کا قومی بحران: ڈیم کے بغیر واٹر سیکیورٹی ماڈل پیش، فلڈ ریچارج کو واحد حل قرار


اسلام آباد/پشاور — پاکستان میں پانی کے بڑھتے ہوئے قومی بحران پر ایک جامع تکنیکی و پالیسی رپورٹ جاری کر دی گئی ہے، جس میں ڈیموں کے بغیر پانی ذخیرہ کرنے اور زیرِ زمین ریچارج کے قومی ماڈل کو دیرپا حل قرار دیا گیا ہے۔ یہ رپورٹ انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی، چیئرمین زرغون تحریک (Green Movement) اور ریٹائرڈ سپرنٹنڈنگ انجینئر (ایریگیشن) نے تیار کی ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان کو دراصل پانی کی کمی نہیں بلکہ پانی کی بدانتظامی، آلودگی اور ضیاع کا شدید بحران درپیش ہے۔ ہر سال کروڑوں ایکڑ فٹ پانی سیلاب کی صورت میں سمندر میں ضائع ہو جاتا ہے، جبکہ زیرِ زمین پانی خطرناک حد تک نیچے جا رہا ہے۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ 2005 اور 2010 کے سیلابوں میں تقریباً 180 ملین ایکڑ فٹ پانی ضائع ہوا، جو ملک کی نو ماہ کی زرعی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی تھا، مگر اس پانی کو محفوظ یا ریچارج کرنے کے لیے کوئی مؤثر قومی پالیسی اختیار نہیں کی گئی۔
تحقیقی رپورٹ میں بڑے شہروں میں زیرِ زمین پانی کی سالانہ کمی پر بھی تشویش ظاہر کی گئی ہے۔ پشاور، مردان، نوشہرہ، لاہور اور فیصل آباد میں پانی کی سطح مسلسل نیچے جا رہی ہے، جبکہ کوئٹہ کے کئی علاقے مکمل طور پر خشک ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سولر ٹیوب ویلز کے بے تحاشا اور غیر منظم استعمال نے اس بحران کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔
رپورٹ میں سیوریج اور صنعتی فضلے کو “خاموش ماحولیاتی قتل” قرار دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ تقریباً 100 فیصد سیوریج اور 90 فیصد صنعتی فضلہ بغیر ٹریٹمنٹ دریاؤں اور نہروں میں شامل ہو رہا ہے، جس کے نتیجے میں زرعی زمینیں زہریلی اور انسانی صحت شدید خطرات سے دوچار ہے۔
انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی نے اپنی رپورٹ میں ڈیم کے بغیر پانی ذخیرہ کرنے کے لیے Flood Diversion + Desert Recharge Model پیش کیا ہے۔ اس ماڈل کے تحت سیلابی پانی کو دریاؤں سے موڑ کر تھرپارکر، چولستان، راجستھان اور بلوچستان جیسے ریگستانی و بنجر علاقوں میں پھیلایا جائے گا، جہاں ریتیلی زمین قدرتی طور پر زیرِ زمین پانی کو ریچارج کرے گی۔ رپورٹ کے مطابق یہ طریقہ کم لاگت، محفوظ اور کرپشن سے پاک ہے اور بخارات یا سیکیورٹی خدشات بھی نہیں رکھتا۔
رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ ملک بھر میں واٹر میٹرنگ، سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب، اور سولر ٹیوب ویلز کے لیے لائسنس اور ریچارج پلان کو لازمی قرار دیا جائے۔ اس کے ساتھ ساتھ نیشنل واٹر ریچارج اینڈ فلڈ مینجمنٹ اتھارٹی کے قیام کی تجویز بھی دی گئی ہے جو فلڈ ڈائیورژن، زیرِ زمین پانی کے تحفظ اور آلودگی کی نگرانی کرے۔
اختتام پر رپورٹ میں سخت قومی وارننگ دی گئی ہے کہ اگر فوری فیصلے اور سرمایہ کاری نہ کی گئی تو پاکستان کو پینے کے پانی کی قلت، زرعی تباہی، بڑے پیمانے پر نقل مکانی اور شدید سماجی بحران کا سامنا کرنا پڑے گا۔ رپورٹ کے مطابق یہ کوئی سیاسی نعرہ نہیں بلکہ انجینئرنگ اور سائنسی حقیقت

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے