ریاض حسین
پاک افغان سرحد کی بندش کو تین ماه سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے، تاہم تاحال بارڈر کھلنے کے کوئی واضح آثار نظر نہیں آ رہے۔
افغانستان کی جانب سے پاکستان میں ہونے والے حملوں کے بعد سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر سرحد بند کی گئی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل ہو چکی ہیں۔
سرحدی بندش نے دونوں اطراف کے تاجروں اور کاروباری طبقے کو شدید مالی نقصان سے دوچار کر دیا ہے، جبکہ سرحدی علاقوں میں روزگار سے وابستہ ہزاروں افراد کی مشکلات میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ سرکاری و غیر سرکاری حلقوں کے مطابق اس صورتحال کے صوبائی معیشت پر بھی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔
دوسری جانب اس بندش کا ایک نمایاں اثر پشاور کی مقامی منڈیوں میں دیکھا جا رہا ہے، جہاں سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق بعض اشیا کی قیمتیں 100 فیصد سے زائد تک کم ہو چکی ہیں، جبکہ سمگلنگ رکنے کے باعث گوشت اور دیگر خوراکی اشیا بھی نسبتاً سستی ہو گئی ہیں،
افغانستان بارڈر کے کسٹم کلیئرنگ ایجنٹس کی تنظیم کے صدر مجیب الرحمان کے مطابق صرف ان کے شعبے سے وابستہ تین ہزار سے زائد افراد بے روزگار ہو چکے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس کے علاوہ یومیہ اجرت پر کام کرنے والے مزدور، ٹیکسی ڈرائیورز، گاڑیوں کے مالکان اور دیگر کاروباری افراد بھی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ خیبر پختونخوا بالخصوص ضلع خیبر کے مکینوں کا روزگار براہِ راست طورخم تجارت سے منسلک ہے، جو اس بندش سے بری طرح متاثر ہو رہا ہے۔
تاجروں کے مطابق پاکستان سے افغانستان کے راستے وسطی ایشیا کو تعمیراتی سامان، سبزیاں اور پھل برآمد کیے جاتے تھے، جبکہ افغانستان سے خشک اور تازہ میوہ جات پاکستان آتے تھے۔ سرحدی بندش کے باعث درآمدات و برآمدات کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ پشاور فروٹ منڈی کے تاجر احمد نورانی کا کہنا ہے کہ پہلے روزانہ 500 کے قریب گاڑیاں مالٹا، کینو اور آلو لے کر افغانستان اور وسطی ایشیا جاتی تھیں، تاہم اب منڈی ویران دکھائی دیتی ہے اور صرف مقامی سطح پر محدود تجارت ہو رہی ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پنجاب میں کینو کا سیزن عروج پر ہے اور کسان کروڑوں روپے کے نقصان کا سامنا کر رہے ہیں۔
ادھر حکومت نے سکیورٹی خدشات کے پیشِ نظر مہاجرین کے خلاف آپریشن بھی شروع کر دیا ہے۔
حکام کے مطابق بعض دہشت گردی کے واقعات میں غیر قانونی طور پر مقیم مہاجرین کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئے ہیں، جس کے بعد سخت اقدامات ناگزیر قرار دیے گئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ جب تک سکیورٹی صورتحال میں بہتری نہیں آتی، پاک افغان سرحد کی فوری بحالی مشکل دکھائی دیتی ہے، اور اس کے اثرات خطے کی تجارت اور سماجی زندگی پر طویل مدت تک محسوس کیے جاتے رہیں گے۔