پاکستان کی ترسیلاتِ زر رواں مالی سال 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کا امکان: وزیرِ خزانہ

وفاقی وزیر برائے خزانہ و محصولات محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ پاکستان کی ترسیلاتِ زر رواں مالی سال کے دوران 41 ارب ڈالر سے تجاوز کرنے کی توقع ہے، جو ملکی بیرونی کھاتوں کے لیے اہم سہارا ثابت ہوں گی اور بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاس ہیں۔
پاکستان پالیسی ڈائیلاگ سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ گزشتہ مالی سال میں ترسیلاتِ زر 38 ارب ڈالر تھیں، جو اب بڑھ کر 41 ارب ڈالر سے زائد ہونے کی پیش گوئی ہے، جس سے معاشی استحکام میں بہتری ظاہر ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت مختلف اہم شعبوں میں ساختی اصلاحات جاری رکھے ہوئے ہے، جن میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو (ایف بی آر) میں بڑے پیمانے پر اصلاحاتی عمل شامل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ٹیکس قوانین کے نفاذ کے لیے ٹیکس تعمیل اور مؤثر نفاذ بنیادی ذرائع ہوں گے، جبکہ ٹیکس پالیسی کی ذمہ داری اب وزارتِ خزانہ کے پاس ہے اور ایف بی آر کا کردار محض محصولات کی وصولی تک محدود کر دیا گیا ہے۔
وزیرِ خزانہ نے بتایا کہ توانائی کے شعبے میں بھی اصلاحات جاری ہیں اور نجکاری کے عمل میں پیش رفت ہوئی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی نجکاری میں مقامی سرمایہ کاروں نے بھی حصہ لیا، جبکہ 24 سرکاری اداروں کو نجکاری کمیشن کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سرکاری اداروں کی نااہلی کے باعث قومی خزانے کو سالانہ تقریباً ایک ہزار ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا، جس کے پیش نظر یوٹیلٹی اسٹورز کارپوریشن، پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو جیسے ادارے بند کیے گئے، جہاں سبسڈیز کا غلط استعمال اور بدعنوانی ہو رہی تھی۔
مالیاتی پالیسی پر بات کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے بار بار ڈیوٹیز بڑھانے کو معیشت کے لیے نقصان دہ قرار دیا اور کہا کہ ڈیوٹیز میں اصلاح اور کاروبار کی لاگت کم کرنے کی ضرورت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ قرضوں کی ادائیگی حکومتی اخراجات کا سب سے بڑا حصہ ہے، جس سے نمٹنے کے لیے ڈیٹ مینجمنٹ آفس قائم کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق حکومت نے گزشتہ سال سود کی ادائیگیوں میں 850 ارب روپے کی بچت کی اور رواں مالی سال میں بھی اسی طرح کی بچت کی توقع ہے، جبکہ شرحِ سود میں کمی سے قرضوں کے دباؤ میں مزید کمی آئے گی۔
وزیرِ خزانہ نے اعلان کیا کہ حکومت چینی مارکیٹ میں پانڈا بانڈز جاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جس سے مالی وسائل میں تنوع آئے گا، اور یہ اجرا آئندہ دو ہفتوں میں متوقع ہے۔ ایک سروے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اب 73 فیصد سرمایہ کار پاکستان میں سرمایہ کاری کے خواہاں ہیں، جو پہلے 61 فیصد تھے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ ٹیکس اور بجلی کے اخراجات میں کمی کے لیے مزید اقدامات درکار ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چار سال قبل پاکستان کو زرمبادلہ کی شدید کمی کا سامنا تھا، جس کے باعث آئی ایم ایف سے رجوع کرنا پڑا۔ اگرچہ تجارتی خسارہ بڑھا ہے، تاہم کرنٹ اکاؤنٹ اب بھی مقررہ حد میں ہے۔
معاشی اشاریوں پر روشنی ڈالتے ہوئے وزیرِ خزانہ نے کہا کہ رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بڑے پیمانے کی صنعتوں کی کارکردگی مثبت رہی۔ نجی شعبے کو قرضوں کی فراہمی 1.1 کھرب روپے تک پہنچ گئی ہے، 1 لاکھ 35 ہزار نئے سرمایہ کار اسٹاک مارکیٹ میں شامل ہوئے ہیں، جبکہ گزشتہ 18 ماہ میں اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری میں 41 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان دنیا میں فری لانسرز کی تعداد کے لحاظ سے تیسرے نمبر پر ہے۔
آخر میں انہوں نے کہا کہ پاکستان 2047 تک صرف اسی صورت میں 3 کھرب ڈالر کی معیشت بن سکتا ہے جب آبادی میں اضافے کو مؤثر طور پر قابو میں رکھا جائ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے