خیبرپختونخوا اسمبلی کی سیکیورٹی کمیٹی کے اجلاس کی اندرونی تفصیلات سامنے آ گئی ہیں۔
اجلاس میں ایکشن آن ایڈ آف سول پاور آرڈیننس کو ختم کرنے سے قبل ہائی پروفائل دہشتگردوں کو حراست میں رکھنے کے لیے نیا طریقہ کار وضع کرنے اور ٹارگٹڈ آپریشنز کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دینے کی تجویز پیش کی گئی
انسپکٹر جنرل آف پولیس نے اجلاس کے دوران بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ پولیس کے پاس وسائل انتہائی محدود ہیں اور صوبے میں دہشتگردی پر فوج کی مدد کے بغیر قابو پانا ممکن نہیں۔
آئی جی کے مطابق خیبرپختونخوا پولیس کی کل تعداد تقریباً ایک لاکھ تیس ہزار ہے جن میں سے 20 سے 30 فیصد اہلکار اہم شخصیات کی سیکیورٹی پر مامور ہیں، جبکہ دہشتگردی کے خلاف سرگرم عمل اہلکاروں کی تعداد صرف 80 ہزار رہ جاتی ہے۔
انہوں نے بتایا کہ صوبے میں پولیس کی استعدادِ کار اور ٹیکنیکل سہولیات میں شدید کمی ہے، سی ٹی ڈی کی نفری بھی ناکافی ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے لیے بجٹ نہ ہونے کے برابر ہے۔ آئی جی نے شکوہ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس کو ایک رنگ روڈ منصوبے سے بھی کم بجٹ فراہم کیا جاتا ہے.
اجلاس میں کمیٹی اراکین نے اپنے اضلاع میں دہشتگردی کے واقعات، کارروائیوں اور متاثرین سے متعلق تجاویز پیش کیں۔ ارکان نے تجویز دی کہ ٹارگٹڈ آپریشن سے قبل تمام اسٹیک ہولڈرز پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی جائیں