تحریر: انجینئر عبدالولی یوسف زئی
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور اس سے متصل شہر راولپنڈی پینے کے پانی کے سنگین بحران میں مبتلا ہیں،
جس نے نہ صرف صحتِ عامہ بلکہ حکمرانی کے نظام پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں۔ دنیا بھر کے سفارتی مشنز اور ملکی انتظامی ڈھانچے کی موجودگی کے باوجود جڑواں شہروں کے لاکھوں عوام کو صاف پانی جیسی بنیادی سہولت میسر نہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اسلام آباد اور راولپنڈی کی یومیہ ضرورت تقریباً 220 ملین گیلن ہے، مگر دستیاب پانی صرف 140 سے 150 ملین گیلن تک محدود ہے، جس سے روزانہ 70 سے 80 ملین گیلن پانی کی کمی برقرار رہتی ہے۔ خانپور ڈیم، سمبلی ڈیم اور راول ڈیم بڑے ذرائع ہیں، جبکہ اضافی ضرورت پوری کرنے کے لیے ٹیوب ویلز اور بورنگ پر انحصار کیا جاتا ہے۔
تاہم، متعدد سروے اور رپورٹس نے انکشاف کیا ہے کہ وفاقی دارالحکومت کے 90 فیصد ٹیوب ویلز میں آرسینک، فلورائیڈ اور بیکٹیریا عالمی معیار سے کہیں زیادہ پائے گئے ہیں۔ بعض علاقوں میں گھروں کو فراہم ہونے والے پانی میں فیکل کولائفارم بیکٹیریا بھی شامل ہیں، جو سیوریج کی آلودگی کی علامت ہے۔ راول ڈیم، جو کبھی صاف پانی کا بڑا ذخیرہ تھا، اب روزانہ 9 ملین گیلن گندہ پانی وصول کر رہا ہے، جس میں گھریلو سیوریج اور صنعتی فضلہ شامل ہے۔
اس آلودگی کے باعث اسلام آباد اور راولپنڈی کے ہسپتالوں میں پانی سے پیدا ہونے والی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ہیپاٹائٹس اے اور ای، ٹائیفائیڈ، ہیضہ، ڈائریا، گردوں اور جگر کے امراض عام ہو چکے ہیں۔ سب سے زیادہ متاثرہ علاقے اسلام آباد کے سیکٹرز G-6، G-7، I-9، I-10 جبکہ راولپنڈی کے پرانے علاقے صدر، راجہ بازار اور ڈھوک حسو ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر فوری اقدامات نہ کیے گئے تو یہ بحران انسانی بقا کے لیے خطرہ بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق جدید واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس کی تنصیب، علیحدہ ڈرینج سسٹم، پانی کے باقاعدہ لیبارٹری ٹیسٹ اور عوامی آگاہی مہم ناگزیر ہیں۔ ساتھ ہی مستقبل کے لیے نئے ڈیمز اور ریزروائرز تعمیر کرنا ہوں گے۔
انجینئر عبدالولی یوسف زئی کے بقول: "اسلام آباد پاکستان کا دل ہے، مگر اس کے شہری آلودہ پانی پینے پر مجبور ہیں۔ اگر دارالحکومت کی یہ حالت ہے تو باقی ملک کا کیا حال ہوگا؟”
رپورٹ کے مطابق یہ مسئلہ صرف جڑواں شہروں تک محدود نہیں بلکہ قومی سطح پر موجود ہے۔ پاکستان کے 90 فیصد علاقوں میں صاف پانی فراہم کرنے کے مؤثر پلانٹس موجود نہیں جبکہ دستیاب 10 فیصد پلانٹس بھی ناکارہ ہو چکے ہیں۔ ماہرین نے اس صورتحال کو قومی سانحہ قرار دیتے ہوئے حکومت اور عوام دونوں سے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔