Engineer Abdul wali yousafzai
پشاور: پاکستان کا توانائی بحران اب محض لوڈشیڈنگ یا بجلی کی قلت تک محدود نہیں رہا بلکہ بجلی کے بڑھتے نرخ، کیپیسٹی پیمنٹس، ٹرانسمیشن لاسز، صنعتی توانائی کی لاگت اور پالیسی فیصلوں کے باعث اس کے معاشی اثرات بھی نمایاں ہو رہے ہیں۔
ان خیالات کا اظہار زرغون تحریک گرین موومنٹ کے چیئرمین اور ریٹائرڈ سپرنٹنڈنگ انجینئر (ایریگیشن) خیبرپختونخوا انجینئر عبدالولی یوسفزئی نے اپنے ایک تجزیے میں کیا ہے۔
ان کے مطابق موجودہ توانائی نظام میں صارفین کو صرف استعمال شدہ بجلی کی قیمت ہی نہیں بلکہ مختلف سرچارجز، فیول ایڈجسٹمنٹس، لائن لاسز اور دیگر نظامی اخراجات کا بھی سامنا ہے، جس سے گھریلو صارفین کے لیے بجلی کے بل ایک بڑا مالی دباؤ بن چکے ہیں۔
انجینئر عبدالولی یوسفزئی کا کہنا ہے کہ بجلی کی طلب میں اضافے کے ساتھ موسم گرما میں گھریلو صارفین کے بلوں میں نمایاں اضافہ ہوتا ہے۔ زیادہ یونٹس کے استعمال کے ساتھ ٹیرف سلیب، فیول ایڈجسٹمنٹ اور دیگر چارجز مجموعی بل میں اضافہ کرتے ہیں۔
انہوں نے توانائی کے موجودہ مالی ڈھانچے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ بجلی کے شعبے کے نقصانات کا بوجھ مختلف شکلوں میں صارفین تک منتقل ہوتا ہے، جس میں بجلی چوری اور لائن لاسز، سبسڈیز، کیپیسٹی پیمنٹس اور ادارہ جاتی نقصانات شامل ہیں۔
صنعتی شعبے پر توانائی کی لاگت کا دباؤ
تجزیے کے مطابق پاکستان کی برآمدی صنعت، خصوصاً ٹیکسٹائل، ملکی معیشت اور روزگار کے لیے اہم ہے، تاہم مہنگی توانائی صنعتی مسابقت کو متاثر کر سکتی ہے۔
عبدالولی یوسفزئی کے مطابق ماضی میں متعدد صنعتی یونٹس اپنے کیپٹیو پاور اور کوجنریشن سسٹمز کے ذریعے بجلی پیدا کرتے تھے، جس سے قومی گرڈ پر دباؤ کم رہتا تھا اور بعض صنعتی عمل میں ایندھن کا زیادہ مؤثر استعمال ممکن ہوتا تھا۔
ان کا کہنا ہے کہ صنعتی کیپٹیو پاور کو قومی گرڈ پر منتقل کرنے کی پالیسی کے نتیجے میں صنعتی توانائی کی لاگت اور گرڈ پر دباؤ میں اضافے کے خدشات پیدا ہوئے ہیں۔
انہوں نے اضافی LNG کارگوز کے ممکنہ مالی اثرات کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ صنعتی گیس کی طلب میں کمی کی صورت میں درآمدی LNG کی مکمل کھپت نہ ہونے سے مالی بوجھ پیدا ہو سکتا ہے۔
کوجنریشن اور توانائی کارکردگی
انجینئر عبدالولی یوسفزئی کے مطابق کوجنریشن ایک ایسا نظام ہے جس میں ایک ہی ایندھن سے بجلی اور حرارت دونوں حاصل کی جاتی ہیں، جس سے توانائی کے ضیاع میں کمی اور مجموعی کارکردگی میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ توانائی پالیسی میں ایسے نظاموں کی حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے جو ایندھن کے زیادہ مؤثر استعمال اور بجلی کی مجموعی لاگت میں کمی کا باعث بنیں۔
سولر توانائی سے گرڈ پر دباؤ کم کرنے کی تجویز
انہوں نے پاکستان میں شمسی توانائی کے وسیع امکانات کو استعمال کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
ان کے مطابق سرکاری دفاتر، اسکولوں، اسپتالوں اور دیگر سرکاری عمارتوں کو مرحلہ وار سولر توانائی پر منتقل کرنے سے دن کے اوقات میں قومی گرڈ پر دباؤ کم کیا جا سکتا ہے اور سرکاری اداروں کے بجلی کے اخراجات بھی کم کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے سرکاری اداروں میں توانائی کے استعمال کے لیے مؤثر نگرانی اور بچت کی پالیسی بنانے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
کیپیسٹی پیمنٹس اور گردشی قرضہ
توانائی کے شعبے میں کیپیسٹی پیمنٹس بھی ایک اہم پالیسی مسئلہ ہے۔ ان ادائیگیوں کے تحت بجلی پیدا کرنے کی دستیاب صلاحیت کے لیے ادائیگی کی جاتی ہے، جس کا تعلق صرف اس بجلی کی مقدار سے نہیں ہوتا جو حقیقتاً گرڈ سے استعمال کی گئی ہو۔
تجزیے میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ بجلی کی طلب اور دستیاب پیداواری صلاحیت میں عدم توازن کی صورت میں کیپیسٹی پیمنٹس، بجلی کے نرخ اور گردشی قرضے پر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔
حل کیا ہے؟
عبدالولی یوسفزئی نے توانائی بحران سے نمٹنے کے لیے صرف بجلی کے نرخ بڑھانے کے بجائے ساختی اصلاحات پر زور دیا ہے۔
ان کے تجویز کردہ اقدامات میں:
- ٹرانسمیشن اور ڈسٹری بیوشن لاسز میں کمی؛
- شفاف اور سادہ ٹیرف نظام؛
- مستحق صارفین کے لیے ہدفی سبسڈی؛
- سرکاری اداروں میں توانائی کی بچت؛
- سولر اور ہائیڈل توانائی کا فروغ؛
- صنعتی شعبے کے لیے مسابقتی توانائی نرخ؛
- اور توانائی کے شعبے میں طویل مدتی اور مستقل پالیسی شامل ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان کو ایسا توانائی نظام درکار ہے جو صارفین کو قابلِ برداشت بجلی فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ صنعت کی مسابقت، برآمدات اور ملکی معیشت کو بھی مضبوط کرے۔
ان کا کہنا ہے کہ اگر توانائی کے شعبے میں بنیادی اصلاحات نہ کی گئیں تو بجلی کے بڑھتے اخراجات کا اثر صرف گھریلو صارفین تک محدود نہیں رہے گا بلکہ صنعتی پیداوار، برآمدات، روزگار اور مجموعی معاشی سرگرمی بھی متاثر ہو سکتی ہے۔