انصاف کی پکار: روسلان ریاض کی موت پر باپ کے دل دہلا دینے والے سوالات

ریاض حسین

8 مارچ 2026 کی صبح میرے لیے ایک ایسا صدمہ لے کر آئی جس نے میری دنیا ہمیشہ کے لیے بدل دی۔ جب غلام اسحاق خان انسٹیٹیوٹ کے ڈین نے مجھے میرے بیٹے روسلان ریاض کی مبینہ خودکشی کی اطلاع دی تو ایسا لگا جیسے میرے پاؤں تلے زمین نکل گئی ہو۔ میں سن ہو کر رہ گیا اور اس تکلیف دہ خبر کو قبول کرنے سے قاصر تھا۔

ہم نے فوری طور پر اس کے چچا کو اطلاع دی اور بغیر وقت ضائع کیے میں، میرا بڑا بیٹا اور اس کے چچا ہدایت خان یونیورسٹی کی جانب روانہ ہو گئے۔ راستے میں ہمیں یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ایک اور کال موصول ہوئی جس میں بتایا گیا کہ روسلان کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے اور وہ زخمی ہے۔ ہم نے اللہ سے مسلسل دعا کی کہ وہ اسے زندگی عطا کرے، لیکن جب ہم یونیورسٹی پہنچے اور میڈیکل سینٹر لے جائے گئے تو ہمارے خدشات حقیقت بن گئے—میرا بیٹا سفید چادر میں لپٹا بے جان پڑا تھا۔

یونیورسٹی عملے نے ہمیں تسلی دینے کی کوشش کی، مگر کوئی الفاظ ہمارے دکھ کو کم نہ کر سکے۔ میرے دل میں ایک ہی سوال تھا کہ ایک ذہین، باصلاحیت اور خوابوں سے بھرپور نوجوان کیسے اپنی زندگی کا خاتمہ کر سکتا ہے؟

واقعے کے بعد ملنے والی معلومات نے مزید شکوک پیدا کیے۔ پہلے کہا گیا کہ حادثہ ہوا، پھر کہا گیا کہ وہ گر گیا، اور بعد میں اسے خودکشی قرار دیا گیا۔ ان متضاد بیانات نے ہمارے دکھ کو مزید بڑھا دیا۔ میں ادارے پر الزام نہیں لگاتا، لیکن ایک باصلاحیت نوجوان کے بارے میں یہ بات ماننا مشکل ہے کہ اس نے خود اپنی زندگی کا خاتمہ کیا ہو۔

روسلان صرف میرا بیٹا نہیں تھا بلکہ اپنے بھائیوں کے لیے رہنمائی کا ذریعہ اور خاندان کے لیے سہارا تھا۔ وہ اکثر انسانیت کی خدمت اور فلاحی ریاست کے قیام کے خواب بیان کرتا تھا۔ جب اسے کہا جاتا کہ یہ مشکل ہے تو وہ پُرعزم انداز میں کہتا: "میں یہ تبدیلی لا کر رہوں گا۔”

ایک 19 سالہ نوجوان جس کا سی جی پی اے پہلے سمسٹر میں 3.5 تھا اور جو آئندہ تعلیم کی تیاری کر رہا تھا، وہ ایسا قدم کیوں اٹھائے گا؟ وہ نوجوان جو گوگل، ایپل اور ہارورڈ جیسی عالمی اداروں تک پہنچنے کا خواب رکھتا تھا، وہ اپنی زندگی کیوں ختم کرے گا؟ یہ سوال آج بھی میرے دل میں موجود ہے۔

واقعے کے حالات پر بھی سنگین سوالات موجود ہیں۔ ایسے واقعات میں عموماً لواحقین کے آنے کا انتظار کیا جاتا ہے، لیکن میرے بیٹے کی لاش میڈیکل سینٹر میں ہمیں دی گئی جبکہ اس کا کمرہ پہلے ہی بند کر دیا گیا تھا۔ جب ہم بعد میں کمرے میں گئے تو وہاں کی صورتحال خودکشی کے دعوے کی تائید نہیں کرتی تھی۔ ماحول ایسا نہیں تھا کہ وہاں ایسا عمل ممکن ہو اور جس کپڑے کا ذکر کیا گیا اس پر بھی کوئی واضح نشان موجود نہیں تھا۔

میں نے یونیورسٹی انتظامیہ، پولیس اور ضلعی حکام پر اعتماد کرتے ہوئے شفاف اور غیر جانبدار تحقیقات کی امید رکھی ہے۔ یونیورسٹی نے ایک ہفتے میں رپورٹ دینے کی یقین دہانی کرائی تھی، تاہم اب تک ہم سے کوئی رابطہ نہیں کیا گیا۔ نہ ہی پوسٹ مارٹم رپورٹ یا لیبارٹری نتائج فراہم کیے گئے ہیں جو اصل حقیقت واضح کر سکیں۔

آج میں ایک غمزدہ باپ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک شہری کے طور پر انصاف کا مطالبہ کر رہا ہوں۔ میں قومی اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ اس معاملے کا نوٹس لیں اور حقیقت سامنے لانے میں مدد کریں۔ ایک معروف ادارے میں ایک نوجوان کی موت کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔

میں صوبائی قیادت، عدلیہ اور پولیس سمیت تمام متعلقہ حکام سے درخواست کرتا ہوں کہ شفاف تحقیقات کو یقینی بنایا جائے۔ میری واحد امید یہی ہے کہ حقیقت سامنے آئے اور انصاف ہو۔

روسلان ریاض صرف ایک طالب علم نہیں تھا بلکہ ایک خواب دیکھنے والا، انسانیت پر یقین رکھنے والا اور مقصد سے بھرپور نوجوان تھا۔ آج اس کی آواز خاموش ہے، مگر میں بطور باپ اس کے لیے انصاف کی تلاش جاری رکھوں گا۔

کیونکہ ایسی زندگی سچ کی مستحق ہوتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے