خیبر پختونخوا میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات میں تشویشناک اضافہ، ایک سال میں 27 ہزار سے زائد نئے کیسز رپورٹ

پشاور — خیبر پختونخوا میں کتوں کے کاٹنے کے واقعات خطرناک حد تک بڑھ گئے ہیں، جس نے صحتِ عامہ اور حکومتی حکمتِ عملی پر سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ وزارتِ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سال 2025 کے دوران صوبے بھر میں کتوں کے کاٹنے کے 87 ہزار 364 کیسز رپورٹ ہوئے، جبکہ 2024 میں یہ تعداد 60 ہزار 223 تھی۔ اس طرح صرف ایک سال کے دوران 27 ہزار سے زائد کیسز کا غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق ضلع مردان سب سے زیادہ متاثرہ علاقہ رہا، جہاں ایک ہی سال میں 13 ہزار 328 کیسز درج کیے گئے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ یہ اعداد و شمار صرف رپورٹ شدہ کیسز پر مشتمل ہیں، جبکہ دور دراز اور کم سہولیات والے علاقوں میں متعدد واقعات کے غیر رپورٹ ہونے کا خدشہ بھی موجود ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق کتے کے کاٹنے کے ہر مریض کو مکمل علاج کے لیے پانچ اینٹی ریبیز انجیکشنز لگانا ضروری ہوتے ہیں۔ ایک انجیکشن کی قیمت تقریباً 2 ہزار 800 روپے ہے، جس کے باعث ایک مریض کے علاج پر اوسطاً 15 ہزار روپے خرچ آتا ہے۔ صوبے بھر میں ویکسین کی مد میں سالانہ اخراجات کا تخمینہ 122 کروڑ روپے لگایا گیا ہے، جبکہ صرف ضلع مردان میں 13 ہزار سے زائد مریضوں کے علاج پر سالانہ تقریباً 18 کروڑ 65 لاکھ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے، جو کہ ابتدائی تخمینہ بتایا جا رہا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی انکشاف کیا گیا ہے کہ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کو اینٹی ریبیز ویکسین کی صرف ایک خوراک مفت فراہم کی جاتی ہے، جبکہ باقی انجیکشنز مریضوں کو مہنگے داموں مارکیٹ سے خریدنا پڑتے ہیں۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ جب ویکسین پر کروڑوں روپے خرچ ہو رہے ہیں تو آوارہ کتوں کی آبادی کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیوں نہیں کیے جا رہے۔
شہریوں اور ماہرین صحت نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ صرف علاج پر انحصار کے بجائے کتے مار مہم، نس بندی اور ویکسینیشن جیسے طویل المدتی اقدامات کیے جائیں، تاکہ انسانی جانوں کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ سرکاری خزانے پر پڑنے والے بھاری بوجھ کو بھی کم کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے