عالمی بینک نے اپنی پاکستان ڈویلپمنٹ رپورٹ 2025 میں خبردار کیا ہے کہ حالیہ سیلاب کے اثرات کے باعث ملک میں مہنگائی میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔ رپورٹ کے مطابق رواں مالی سال میں مہنگائی کی شرح 7.2 فیصد تک پہنچنے کا امکان ہے، جب کہ اگلے سال یہ 6.8 فیصد رہنے کی پیش گوئی کی گئی ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستانی معیشت کی شرحِ نمو 2025 میں 3 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کی 2.6 فیصد نمو سے قدرے بہتر ہے۔ تاہم 2026 میں بھی یہ شرح 3 فیصد کے آس پاس رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
عالمی بینک کے مطابق سیلاب سے معیشت کو بھاری نقصان پہنچا، جب کہ زرعی شعبہ دباؤ کا شکار رہا۔ دوسری جانب صنعتی اور خدماتی شعبوں میں بہتری دیکھی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مالی نظم و ضبط برقرار رکھنے سے مہنگائی کسی حد تک قابو میں رہی۔
رپورٹ میں حکومت پاکستان کو تجویز دی گئی ہے کہ وہ برآمدات بڑھانے کے لیے ٹیرف اصلاحات کے ساتھ ساتھ ترقیاتی ایجنڈے میں ایکسپورٹ سیکٹر کو ترجیح دے، اور نیشنل ٹیرف پالیسی پر مکمل عملدرآمد یقینی بنائے۔
عالمی بینک نے مزید کہا کہ ترسیلات زر میں اضافہ برآمدات و درآمدات کے درمیان فرق کو کم کرسکتا ہے۔ ساتھ ہی حکومت کو ٹیکس نیٹ میں توسیع، سرکاری اداروں میں اصلاحات اور نجکاری کے عمل کو تیز کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان میں ہر سال 16 لاکھ نوجوان روزگار کے متلاشی کے طور پر مارکیٹ میں داخل ہو رہے ہیں، جب کہ رواں مالی سال غربت کی شرح 21.5 فیصد رہنے کا امکان ہے۔ ادارے نے زور دیا ہے کہ غربت میں کمی اور معیارِ زندگی میں بہتری کے لیے پائیدار معاشی ترقی ضروری ہے۔