پاکستان کی معیشت کو 78 سالہ بحران نے گھیر لیا: سیلاب، آئی پی پیز اور ڈیموں کی کمی سب سے بڑی وجوہات

تحریر: انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی (ریٹائرڈ سپرنٹنڈنگ انجینئر، چیئرمین زرغون تحریک گرین موومنٹ)

اسلام آباد: پاکستان کی معیشت اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے اور ماہرین کے مطابق اس کی جڑیں 1947 سے اب تک کے پالیسی فیصلوں، بدانتظامی اور وسائل کے غیر مؤثر استعمال میں پیوست ہیں۔ ملک، جو پانی، زرعی زمین اور معدنی وسائل سے مالا مال ہے، آج دنیا کے مقروض ترین ممالک میں شامل ہو چکا ہے۔

سیلابی نقصانات: 76 ہزار ارب روپے کا نقصان

قیام پاکستان سے اب تک تقریباً ہر سال بڑے پیمانے پر آنے والے سیلاب نے قومی معیشت کو کاری ضرب لگائی ہے۔
• 1950 کا سیلاب: 2900 ہلاکتیں، ایک کروڑ متاثرین۔
• 1992 کا سیلاب: 10 لاکھ گھر تباہ، 3 کروڑ متاثرین۔
• 2010 کا تباہ کن سیلاب: 2000 ہلاکتیں، 2 کروڑ متاثرین، 43 ارب ڈالر نقصان۔
• 2022 کا سیلاب: 1739 ہلاکتیں، 3 کروڑ 30 لاکھ متاثرین، 30 ارب ڈالر نقصان۔
• 2025 کا ہائی فلڈ: گلیشیئر پگھلنے اور غیر معمولی بارشوں سے لاکھوں خاندان متاثر۔

اعداد و شمار کے مطابق 1947 سے 2025 تک سیلابی نقصانات کا تخمینہ کم از کم 76 ہزار ارب روپے لگایا گیا ہے۔

آئی پی پیز کا بوجھ: 40 ہزار ارب روپے سے زائد

1990 کی دہائی میں متعارف کرائے گئے نجی بجلی گھروں (آئی پی پیز) کے معاہدے معیشت کے لیے ایک مستقل بوجھ بن گئے۔ ان معاہدوں کے باعث بجلی مہنگی ہوئی، گردشی قرضہ بڑھا اور صنعت متاثر ہوئی۔
• موجودہ واجبات: 40 ہزار ارب روپے سے زائد
• گردشی قرضہ: 2500 ارب روپے سے تجاوز کر چکا ہے۔

ڈیم نہ بننے کے نتائج

پاکستان کی سب سے بڑی ناکامی بڑے آبی ذخائر کی تعمیر نہ ہونا قرار دی گئی ہے۔
• بھاشا ڈیم: 27 سال سے زیر تعمیر۔
• داسو ڈیم: 10 سال تاخیر کا شکار۔
• نیلم جہلم منصوبہ: 800 ارب روپے خرچ ہونے کے باوجود مکمل نہ ہو سکا۔
• یئہ گاج ڈیم: 16 سال بعد بھی ادھورا، لاگت 60 ارب روپے تک جا پہنچی۔

اس وقت پاکستان صرف 30 دن کا پانی ذخیرہ کر سکتا ہے، جبکہ بھارت کی صلاحیت 170 دن اور مصر کی 700 دن ہے۔

قرضوں کا بوجھ اور مجموعی نقصان

پاکستان نے اب تک تقریباً 130 ارب ڈالر کے بیرونی قرضے لیے ہیں۔ ماہرین کے مطابق اگر یہی رقوم ڈیموں کی تعمیر اور پانی کے ذخائر پر لگائی جاتیں تو قرض لینے کی ضرورت ہی پیش نہ آتی۔
• سیلابی نقصانات: 76,000 ارب روپے
• آئی پی پیز و بجلی کا بوجھ: 40,000 ارب روپے
• مجموعی نقصان: 116,000 ارب روپے (116 کھرب روپے سے زائد)

یہ رقم پاکستان کے تمام بیرونی قرضوں سے کئی گنا زیادہ ہے۔

ماہرین کا حل

انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی کے مطابق پاکستان کو فوری اقدامات کی ضرورت ہے:
• بڑے ڈیموں کی ہنگامی بنیادوں پر تعمیر۔
• آئی پی پیز معاہدوں پر نظرِ ثانی۔
• قومی واٹر مینجمنٹ پالیسی کی تشکیل۔
• سستی پن بجلی پر سرمایہ کاری۔
• جدید سیلابی انفراسٹرکچر اور ابتدائی انتباہی نظام۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر فیصلے مؤخر کیے گئے تو آنے والی نسلیں قرضوں، پانی اور بجلی کی قلت سے بدترین بحران کا شکار ہوں گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے