محکمہ صحت میں کرپشن انکوائریاں التوا کا شکار، غیرقانونی اقدامات کا انکشاف

#KhyberPakhtunkhwa #HealthDepartment #Corruption #PendingInquiries #AccountabilityCrisis

پشاور: محکمہ صحت میں کرپشن انکوائریاں برسوں سے التوا کا شکار، ملوث افسران ریٹائرمنٹ اور موت کے باعث بچ نکلے

محکمہ صحت خیبرپختونخوا میں کرپشن اور بے ضابطگیوں سے متعلق انکوائریوں کا انکشاف ہوا ہے کہ یہ برسوں سے التوا کا شکار ہیں اور ان کے نتائج آج تک سامنے نہیں آ سکے۔ ذرائع کے مطابق اربوں روپے کی بدعنوانیوں، جعلی بھرتیوں، فنڈز کے غلط استعمال اور ادویات کی خریداری میں بے قاعدگیوں پر تحقیقات تو شروع کی گئیں، تاہم بیشتر کیسز ریٹائرمنٹ یا ملوث اہلکاروں کی موت کے باعث فائلوں کی نذر ہو گئے۔

اندرونی ذرائع کا کہنا ہے کہ محکمہ صحت میں احتسابی عمل ریٹائرمنٹ اور موت کو ڈھال بنا کر بری طرح متاثر ہوا ہے، جس کے نتیجے میں عملی احتساب تقریباً ناممکن ہوگیا ہے۔

دوسری جانب محکمہ صحت میں ترقیوں کے نام پر بڑے پیمانے پر غیر قانونی اقدامات اور اختیارات کے غلط استعمال کا بھی انکشاف ہوا ہے۔ اس حوالے سے فیکٹ فائنڈنگ انکوائری رپورٹ کے مطابق ڈپٹی ڈائریکٹر پیرامیڈکس اور دیگر افسران نے سینیارٹی لسٹ میں غیر قانونی رد و بدل کیا، جسے قواعد و ضوابط کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا گیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیرامیڈکس پروموشن سیل کے افسران نے 24 مارچ کو جاری شدہ سینیارٹی لسٹ کو 9 مئی کو بغیر کسی قانونی اختیار کے تبدیل کر دیا۔ انکوائری کمیٹی نے ڈپٹی ڈائریکٹر ہمایون، اسسٹنٹ ڈائریکٹر عبدالعزیز، سینئر کلرک کمال خان اور کمپیوٹر آپریٹر عالم زیب کو ملوث قرار دیتے ہوئے سفارش کی ہے کہ اصل لسٹ فوری بحال کی جائے اور ذمہ داران کے خلاف ای اینڈ ڈی رولز 2011 کے تحت کارروائی عمل میں لائی جائے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے