سپریم کورٹ سے نیلم ویلی اور ملک بھر میں جنگلات کی تباہی پر ازخود نوٹس لینے کا مطالبہ

#NeelumValley #Deforestation #GreenMovement #SupremeCourtPakistan

زرغون تحریک (گرین موومنٹ) کے چیئرمین اور سابق سپرنٹنڈنگ انجینئر ایریگیشن، انجینئر عبدالولی خان یوسفزئی نے سپریم کورٹ آف پاکستان سے اپیل کی ہے کہ نیلم ویلی سمیت ملک بھر میں جاری جنگلات کی بے دریغ کٹائی پر فوری ازخود نوٹس لیا جائے۔

ان کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ محض ماحولیاتی نہیں بلکہ پاکستان کی بقا اور قومی سلامتی کا مسئلہ بن چکا ہے۔ انہوں نے اپنی جامع رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ گوگل ارتھ سیٹلائٹ امیجز کے مطابق لائن آف کنٹرول (LOC) کے بھارتی حصے میں گھنے جنگلات موجود ہیں، جب کہ پاکستانی حصے میں پہاڑ تیزی سے بنجر ہوتے جا رہے ہیں، جو ریاستی اداروں اور ماحولیاتی پالیسیوں کی ناکامی کا ثبوت ہے۔

خطرناک حقائق اور اعداد و شمار

رپورٹ کے مطابق:

  • 1947 میں پاکستان کا 33 فیصد رقبہ جنگلات پر مشتمل تھا جو اب گھٹ کر صرف 4.8 فیصد رہ گیا ہے۔
  • بھارت نے آزادی کے بعد اپنے جنگلاتی رقبے کو 24 فیصد تک بڑھا لیا ہے، جبکہ عالمی اوسط 31 فیصد ہے۔
  • پاکستان ہر سال تقریباً 27 ہزار ہیکٹر جنگلات کھو رہا ہے اور موجودہ رفتار جاری رہی تو اگلی دو دہائیوں میں قدرتی جنگلات مکمل طور پر ختم ہو سکتے ہیں۔

نقصانات

جنگلات کی تباہی سے لینڈ سلائیڈنگ، سیلاب، گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ، زرعی زمین اور انفراسٹرکچر کو اربوں روپے نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ نیلم ویلی جیسے حساس علاقوں میں ماحولیاتی عدم توازن سرحدی کشیدگی کو بھی بڑھا سکتا ہے۔

وجوہات

رپورٹ میں اس بحران کی بڑی وجوہات میں ٹمبر مافیا، سیاسی سرپرستی، ناقص قانون سازی، غربت اور کرپشن کو قرار دیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ کے لیے تجاویز

انجینئر عبدالولی نے مطالبہ کیا ہے کہ:

  1. قومی انکوائری کمیشن قائم کر کے ٹمبر مافیا کو بے نقاب کیا جائے۔
  2. غیر قانونی کٹائی کو دہشت گردی کے زمرے میں شامل کیا جائے۔
  3. سیٹلائٹ اور ڈرون کے ذریعے نگرانی کا نظام بنایا جائے۔
  4. کمیونٹی فارسٹ پروٹیکشن ماڈل کے تحت مقامی لوگوں کو شامل کیا جائے۔
  5. سپریم کورٹ کی نگرانی میں شجرکاری مہم چلائی جائے۔
  6. عالمی اداروں (FAO، UNEP) سے فنڈنگ اور تکنیکی مدد حاصل کی جائے۔

نتیجہ

انہوں نے کہا کہ جنگلات کی تباہی پاکستان کو قحط، موسمیاتی تباہ کاریوں اور علاقائی کشیدگی کی طرف دھکیل سکتی ہے، اس لیے چیف جسٹس کو فوری مداخلت کرنا ہوگی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے