بونیر: بارشوں اور سیلاب میں ہلاکتوں کی تعداد مزید بڑھ گئی

رپورٹ (CBN247)

ضلع بونیر میں موسلا دھار بارشوں، تباہ کن سیلاب اور شدید طوفانوں نے تباہی مچا دی ہے۔ درجنوں دیہات اور مکانات پانی میں ڈوب گئے، زرعی زمینیں اور سڑکیں برباد ہو گئیں جبکہ جانی نقصان کی شرح تشویشناک حد تک بڑھ گئی ہے۔

خیبرپختونخوامیں بارش، سیلاب اور کلاؤڈ برسٹ ، گاؤں کے گاؤں بہا کر لے گئے

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ تحصیل گدیزی کے علاقے بیشونڑی، ملک پور، بلوخان اور قریبی دیہات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں۔ یہاں اب تک 158 لاشیں نکالی جا چکی ہیں جبکہ تقریباً 850 افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کیا گیا ہے۔

تحصیل ڈگر کے علاقوں گُوکند اور کوٹ سمیت مختلف مقامات پر 28 افراد جاں بحق ہوئے اور 200 سے زائد شہری، جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، ریسکیو کیے گئے ہیں۔

تحصیل چغرزئی کے گل بانڈی اور درگاہ چینہ علاقوں میں ایک ہی خاندان بری طرح متاثر ہوا، جہاں 19 افراد ملبے تلے دب کر جاں بحق ہوگئے۔ یہاں مجموعی طور پر 41 لاشیں نکالی گئیں جبکہ 35 زخمیوں کو گل بانڈی اسپتال منتقل کیا گیا۔

ریسکیو 1122 بونیر کے مطابق ان کی ٹیمیں دن رات مسلسل سرچ اینڈ ریسکیو آپریشن میں مصروف ہیں۔ صوابی اور پشاور سے خصوصی ریسکیو ٹیمیں بھی علاقے میں پہنچ چکی ہیں اور مشترکہ طور پر لوگوں کو محفوظ مقامات پر منتقل کر رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل محمد طیب عبداللہ، ڈائریکٹر آپریشنز میر عالم، نارتھ ریجن کے ڈائریکٹر ارشد اقبال، ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر بونیر انجینئر کاشف خان یوسفزئی اور ڈسٹرکٹ ایمرجنسی آفیسر صوابی اویس بابر خود موقع پر موجود ہیں اور آپریشن کی نگرانی کر رہے ہیں۔

طیب عبداللہ نے عوام سے اپیل کی کہ وہ سیلابی ریلوں، برساتی ندی نالوں اور پلوں کے قریب نہ جائیں اور کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوراً 1122 پر رابطہ کریں۔ انہوں نے یقین دلایا کہ ریسکیو 1122 تمام دستیاب وسائل بروئے کار لاتے ہوئے عوام کی جان و مال کے تحفظ کے لیے ہر وقت تیار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے