خیبر پختونخوا کا دانشور: فکری تنہائی اور حساسیت کا بوجھ


محمد یونس

کیا خیبر پختونخوا کے ذہین اور حساس افراد واقعی تنہائی اور دکھ کی زندگی گزارتے ہیں؟ یہ سوال کسی ایک فرد کی جذباتی کیفیت کا نہیں بلکہ ایک ایسی اجتماعی حقیقت کا عکاس ہے جو اس خطے میں زیادہ شدت سے محسوس کی جاتی ہے۔ یہاں ایسے نوجوان، صحافی، لکھاری اور سماجی کارکنوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے جو گہری سوچ، تنقیدی نقطہ نظر اور حقیقت کو مختلف زاویوں سے دیکھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ لیکن افسوس، یہی صلاحیت اکثر اوقات ان کے لیے ایک بوجھ بن جاتی ہے۔


یہاں کا معاشرہ ایسے لوگوں کی فہم، جذبات اور خیالات کی گہرائی کو نہ تو سمجھ پاتا ہے اور نہ ہی اسے برداشت کرنے کو تیار ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ ایک ایسی خاموش تنہائی کی صورت میں نکلتا ہے جو نہ مکمل طور پر ذاتی ہوتی ہے اور نہ ہی خالصتاً ذہنی۔ یہ ایک اجتماعی، تاریخی اور تہذیبی تنہائی ہوتی ہے جس کی جڑیں گہری ہیں۔


خیبر پختونخوا اور سابقہ قبائلی اضلاع کے حالات کو دیکھیں تو ہمیں کئی ایسی مثالیں ملتی ہیں جہاں ذہین لوگ صرف اپنی سوچ کی وجہ سے یا تو معاشرے سے الگ تھلگ ہو گئے، یا پھر موجودہ نظام سے کٹ کر رہ گئے۔ شدت پسندی، فوجی آپریشنز، جبری نقل مکانی اور وسائل کی کمی نے پہلے ہی یہاں کے معاشرے کو کمزور کیا ہے۔ ایسے حالات میں جو لوگ فکری مزاحمت یا تنقیدی سوچ رکھتے ہیں، ان کے لیے یہ خطہ مزید محدود ہو گیا ہے۔

فکری تنہائی: ایک نفسیاتی یا سماجی المیہ؟

اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ یہ حساس اور ذہین لوگ یا تو مکمل طور پر گوشہ نشینی اختیار کر لیتے ہیں، یا پھر اپنی فکری برتری کو انا کی ایک دیوار کے پیچھے چھپا لیتے ہیں۔ نفسیاتی ماہرین اسے "Intellectual Narcissism” کا نام دیتے ہیں، یعنی ایک ایسی ذہنی کیفیت جہاں فرد اپنی عقل اور تجزیاتی صلاحیتوں کو اس قدر اہم سمجھنے لگتا ہے کہ دوسروں سے دوری اختیار کر لیتا ہے۔ لیکن خیبر پختونخوا جیسے خطے میں، جہاں علمی فضا اور برداشت کا کلچر پہلے ہی کمزور ہے، یہ فاصلہ مکمل طور پر سماجی تعلقات کے خاتمے میں بدل جاتا ہے۔


یہ فکری تنہائی اکثر ان افراد کو شدید نفسیاتی دباؤ، مایوسی اور بے قدری کے احساس کی طرف دھکیل دیتی ہے۔ وہ محسوس کرتے ہیں کہ ان کی بات سننے والا کوئی نہیں، ان کے درد کو سمجھنے والا کوئی نہیں۔ اس کے نتیجے میں وہ یا تو خود کو مکمل طور پر سماج سے الگ کر لیتے ہیں یا ایک تلخ ردعمل کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ کچھ لوگ لکھنا شروع کر دیتے ہیں، کچھ خاموش ہو جاتے ہیں اور کچھ ہمیشہ کے لیے ملک چھوڑ کر چلے جاتے ہیں۔

حساسیت یا خودپسندی؟ ایک نازک تفریق

یہاں یہ سمجھنا بہت ضروری ہے کہ ہر ذہین شخص جو خود کو الگ تھلگ محسوس کرتا ہے، وہ خودپسند نہیں ہوتا۔ کئی بار یہ تنہائی ایک گہری حساسیت، سچائی کی تلاش اور معاشرتی بے حسی کے خلاف ایک خاموش احتجاج ہوتی ہے۔ خیبر پختونخوا میں درجنوں ایسے نوجوان، مصنفین اور دانشور موجود ہیں جنہوں نے گمنامی میں رہتے ہوئے معاشرے کی نبض کو محسوس کیا، لکھا اور خاموشی سے تبدیلی لانے کی کوشش کی۔


لیکن ان کوششوں کو جگہ دینا، سننا اور سمجھنا ایک اجتماعی ذمہ داری ہے۔ ایسے افراد کے لیے مکالمے، ذہنی صحت کی سہولیات اور ایک ایسا ماحول پیدا کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے جہاں وہ خود کو تنہا نہ سمجھیں۔ دانشوروں اور حساس افراد کو تنہا چھوڑ دینا، دراصل اجتماعی دانش اور بصیرت کا نقصان ہے۔ اور یہ نقصان وہ معاشرے اٹھاتے ہیں جو پہلے ہی محرومیوں اور چیلنجز سے دوچار ہوں۔


تو کیا ذہین لوگ دکھی اور تنہا رہتے ہیں؟ اس کا جواب ہے کہ ہاں، رہتے ہیں۔ خاص طور پر وہاں جہاں ان کی سوچ کو جگہ نہ ملے، ان کی آواز کو اہمیت نہ دی جائے اور معاشرہ ان کی گہرائی سے خوفزدہ ہو۔ یہ لوگ محض فرد نہیں ہوتے بلکہ ایک آئینہ ہوتے ہیں، جن میں ہم اپنی اجتماعی حالت کو دیکھ سکتے ہیں۔ بس شرط یہ ہے کہ ہم دیکھنے کی ہمت کریں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے