رپورٹ (CBN247)
پشاو ر یونیورسٹی کے اساتذہ اور نان ٹیچنگ سٹاف نے مطالبات کی عدم منظوری پر ہڑتال کا اعلان کر دیا ہے ۔
اس بات کا فیصلہ میں یونیورسٹی اساتذہ، افسران اور دیگر ملازمین کی نمائندہ تنظیم جیک نے کے منعقدہ ہنگامی اجلاس میں تفصیلی بحث کے بعد کیا گیا ۔اجلاس میں یونیورسٹی کے حاضر سروس ملازمین اور پنشنرز کو درپیش سنگین مالی مسائل پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔
اجلاس میں اس امر پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا کہ ملازمین و پنشنرز کو اُن کے جائز مالی حقوق کی مسلسل عدم ادائیگی سے ادارے کا ماحول شدید اضطراب اور بے چینی کا شکار ہو چکا ہے۔ متعدد یاد دہانیوں کے باوجودیونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے نہ تو سنجیدہ اقدامات کیے گئے اور نہ ہی کوئی واضح لائحہ عمل پیش کیا گیا۔
جیک کا مطالبہ ہے کہ جولائی 2025 کی مکمل تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی، بشمول 10 فیصد ایڈہاک ریلیف الاؤنس (ARA) اور 30 فیصد ڈسپیئرٹی ریڈکشن الاؤنس (DRA) دینے سمیت ، جون 2025 کی باقی ماندہ 50 فیصد تنخواہ اور پنشن کی ادائیگی (گریڈ 17 تا 22) کی جائے ،مالی سال24-2023 کی چار ماہ اور 25-2024کی ایک ماہ کی تنخواہوں کے بقایا جات کی فوری ادائیگی، یونیورسٹی کالج فار بوائز میں FA/FSc کے داخلوں کا فوری شیڈول جاری کیا جائے تاکہ تعلیمی سرگرمیوں کا تسلسل برقرار رکھا جا سکے۔
جیک نے اجلاس میں متفقہ فیصلہ کیا کہ بروز پیر، 4 اگست 2025 سے یونیورسٹی میں غیر معینہ مدت کے لیے مکمل ہڑتال کا آغاز کیا جائے گا، جو مطالبات کی مکمل تکمیل تک جاری رہے گا۔
جیک نے واضح کیا ہے کہ جامعہ کی تمام تعلیمی، تحقیقی ، انتظامی اور امتحانی سرگرمیاں مکمل طور پر معطل رہیں گی تاہم اسکے علاوہ پرامن مظاہرے اور دھرنے دیے جائیں گے، جن کی تفصیلات علیحدہ طور پر جاری کی جائیں گی جبکہ یہ بھی واضح کیا ہے کہ اس دوران کسی بھی قسم کی تعلیمی، انتظامی اور مالی نقصان کی تمام تر ذمہ داری یونیورسٹی انتظامیہ پر عائد ہوگی۔
جیک کے عہدیداروں نے مزید کہا ہے کہ ہڑتال کا آغاز دو مراحل میں ہوگا،پہلا مرحلہ (4 تا 6 اگست 2025، پیر تا بدھ)،جامعہ کے مین ایڈمنسٹریشن بلاک کے تمام دفاتر میں تمام امور معطل رہیں گے۔ جیک کی کابینہ اور ملازمین وائس چانسلر ، رجسٹرار اور ٹریژرار دفاتر کے سامنے پرامن احتجاجی کیمپ لگائینگے۔
تاہم دوسرا مرحلہ (جمعرات، 7 اگست 2025 سے):کنٹرولر امتحانات کے دفتر سمیت پوری جامعہ مکمل طور پر بند کر دی جائے گی ۔مزید یہ کہ بروزِپیر بتاریخ 4 اگست کو تمام ملازمین کی جنرل باڈی ہوگی۔
یہاں پر یہ بات قابل ذکر ہے کہ پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن کی جانب سے وزیر اعظم ،صدر پاکستان ،وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا اور مشیر خزانہ خیبر پختونخوا کے نام اپنے مطالبات اور تحفظات کے حؤالے سے الگ الگ خطوط بھی ارسال کئے گئے تھے ۔