گلیشیئرز کا پگھلاؤ، سمندر کی سطح میں اضافہ اور ناکارہ فلڈ وارننگ سسٹم — پاکستان و افغانستان کے لیے ایک خطرناک وارننگ

تحریر و تحقیق: انجینئر عبد الولی خان یوسفزئی


پاکستان اور افغانستان میں ہندوکش، قراقرم، اور ہمالیہ کے برفانی ذخائر تیزی سے پگھل رہے ہیں، جو نہ صرف خطے کے آبی وسائل کے لیے خطرہ ہیں بلکہ لاکھوں انسانوں کی زندگیوں کے لیے بھی ایک سنگین وارننگ بن چکے ہیں۔

دنیا کا تیسرا بڑا برفانی خطہ خطرے میں

ہندوکش-ہمالیہ خطہ، جسے دنیا کا “تیسرا قطب” بھی کہا جاتا ہے، موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث شدید متاثر ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق، اگر عالمی درجہ حرارت میں اضافہ موجودہ رفتار سے جاری رہا، تو 2100 تک اس خطے کے 30% سے 75% تک گلیشیئرز ختم ہو سکتے ہیں۔

پاکستان: گلیشیئرز، سیلاب اور پانی کا بحران

پاکستان میں 3,044 گلیشیئر جھیلیں موجود ہیں، جن میں سے 33 کو “انتہائی خطرناک” قرار دیا جا چکا ہے۔ دریائے سندھ، چناب، جہلم، کابل، سوات، گلگت، اور ہنزہ جیسے دریا ان گلیشیئرز پر منحصر ہیں۔

NASA اور ICIMOD کی رپورٹس کے مطابق، گزشتہ 30 سالوں میں شمالی پاکستان میں گلیشیئرز کا حجم 30 فیصد کم ہو چکا ہے۔ گلیشیئر جھیلوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہو رہا ہے، جس سے Glacial Lake Outburst Floods (GLOFs) جیسی تباہ کن صورتِ حال جنم لے سکتی ہے۔

افغانستان: برفباری میں کمی اور سیلابی خطرات

افغانستان میں حالیہ برسوں میں برفباری میں 30 فیصد تک کمی ہوئی ہے، جس سے گلیشیئرز کی بحالی کی قدرتی رفتار متاثر ہوئی ہے۔ دریائے کابل، پنجشیر، کنڑ اور نوریستان کے علاقوں میں پانی کی سطح میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس سے نشیبی علاقوں کو سیلاب کا شدید خطرہ لاحق ہے۔

سمندر کی سطح میں اضافہ — کراچی اور دیگر ساحلی علاقے زد میں

عالمی ماحولیاتی اداروں کے مطابق، اگلے چند دہائیوں میں سمندر کی سطح میں 0.5 سے 1.9 میٹر تک اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے کراچی، ٹھٹھہ، اور بدین جیسے شہر خطرے کی زد میں آ جائیں گے۔

World Bank اور UNEP کے مطابق اگر موجودہ رفتار سے ماحولیاتی تباہی جاری رہی، تو آئندہ 30 سالوں میں پاکستان کا تقریباً 10 فیصد ساحلی علاقہ زیرِ آب آ سکتا ہے۔

فلڈ وارننگ سسٹم — پاکستان کی خاموش ناکامی

ماہر انجینئر عبد الولی خان یوسفزئی نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں فلڈ وارننگ کا نظام “ناکام، غیر مؤثر اور غیر سائنسی” ہے۔ چرات پر نصب ریڈار صرف پنجاب اور سندھ تک محدود ہے، جبکہ خیبرپختونخوا اور افغانستان سے آنے والے سیلابی ریلوں کی پیشگی اطلاع دینے میں ناکام ہے۔

انہوں نے ریڈار سسٹم کو بابوسر یا کوہاٹ پہاڑی سلسلے پر منتقل کرنے کی تجویز دی، تاکہ افغانستان سے آنے والے خطرات کا بروقت اندازہ لگایا جا سکے اور خیبرپختونخوا کو کم از کم 4 گھنٹے کی وارننگ دی جا سکے۔

فلڈ مانیٹرنگ میں نالائقی

دریائے کابل پر نصب نوشہرہ فلڈ مانیٹرنگ سسٹم بھی ناکارہ قرار دیا گیا ہے، جو وقت پر وارننگ دینے سے قاصر ہے۔ جب تک ڈیٹا آتا ہے، تب تک سیلاب کئی علاقے تباہ کر چکا ہوتا ہے۔

زرغون تحریک کی سفارشات

انجینئر عبد الولی خان یوسفزئی اور زرغون تحریک نے مندرجہ ذیل فوری اقدامات تجویز کیے ہیں:
1. پاکستان اور افغانستان کے درمیان پانی کی مشترکہ نگرانی کا معاہدہ کیا جائے۔
2. جدید گلیشیئر مانیٹرنگ سسٹمز نصب کیے جائیں۔
3. خطرناک گلیشیئر جھیلوں کی بروقت نگرانی اور GLOFs کی پیشگی اطلاع کا نظام بنایا جائے۔
4. کراچی اور دیگر ساحلی علاقوں کے لیے Sea Walls اور Early Warning Systems تعمیر کیے جائیں۔
5. شجرکاری، کاربن اخراج میں کمی، اور عوامی آگاہی مہمات کو ترجیح دی جائے۔
6. نشیبی علاقوں کی آبادی کی محفوظ مقامات پر منتقلی کے لیے نیشنل پلان ترتیب دیا جائے۔
7. چترال، گلگت، سوات، اور دیگر خطوں میں جدید فلڈ وارننگ سسٹمز نصب کیے جائیں۔
8. بین الاقوامی سطح پر چین، بھارت اور افغانستان سے ڈیٹا شیئرنگ کے معاہدے کیے جائیں۔

آخری وارننگ

انجینئر عبد الولی خان یوسفزئی نے خبردار کیا ہے:

“اگر ہم نے ابھی اصلاح نہ کی تو مستقبل کا سیلاب صرف پانی کا نہیں، بربادی، ہجرت، اور معاشی تباہی کا سیلاب ہوگا۔”

انہوں نے عالمی اداروں، حکومتوں، میڈیا اور پالیسی سازوں سے مطالبہ کیا ہے کہ اس تحقیقی رپورٹ کو ایک “وارننگ” کے طور پر لیں — یہ ایک ماہر کی دہائی ہے، جو برسوں سے میدان میں ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے