لاہور میں اسموگ خطرناک سطح پر، اے کیو آئی 535؛ فصلوں کی باقیات جلانے کے واقعات میں اضافہ

#LahoreSmog #AirPollution #AQI535 #SmogAlert #PakistanWeather #CropBurning #AirQuality #EnvironmentalPollution #Punjab #ClimateChange

تحریر: ریاض حسین

لاہور: لاہور میں فضائی آلودگی خطرناک سطح پر پہنچ گئی ہے، جہاں پیر کی صبح ایئر کوالٹی انڈیکس (اے کیو آئی) 535 جبکہ فضا میں باریک آلودہ ذرات پی ایم 2.5 کی مقدار 343 مائیکروگرام فی مکعب میٹر ریکارڈ کی گئی۔ فضائی آلودگی کی نگرانی کرنے والے ادارے آئی کیو ایئر کے مطابق پنجاب کے دیگر شہروں میں بھی آلودگی کی سطح انتہائی بلند رہی۔

پیر کی صبح ملک کے آلودہ ترین شہروں کی فہرست میں گوجرانوالہ 606 اے کیو آئی کے ساتھ پہلے، لاہور 509 کے ساتھ دوسرے، فیصل آباد اور ملتان 310 کے ساتھ تیسرے، سیالکوٹ 260 کے ساتھ پانچویں اور پشاور 216 اے کیو آئی کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہا۔ مختلف اوقات میں ہونے والی پیمائش کے دوران گوجرانوالہ کا اے کیو آئی 675 تک بھی پہنچا۔

پی ایم 2.5 کے انتہائی باریک ذرات پھیپھڑوں میں گہرائی تک داخل ہو سکتے ہیں اور خون میں شامل ہو کر انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات پیدا کر سکتے ہیں۔

فصلوں کی باقیات جلانا اسموگ کی اہم وجہ

ماحولیاتی نگرانی کی ویب سائٹ ہماری ہوا کے تجزیے کے مطابق، یکم سے 29 اکتوبر کے دوران ناسا کے سیٹلائٹس نے پاکستانی پنجاب میں آگ کے 13,241 مقامات کی نشاندہی کی، جبکہ بھارتی پنجاب میں یہ تعداد 3,158 رہی۔ پاکستانی پنجاب میں نشاندہی کیے گئے تقریباً 92 فیصد مقامات زرعی زمینوں پر تھے، جہاں فصلوں کی باقیات جلائے جانے کا امکان ظاہر کیا گیا۔

اکتوبر کے آخری سات دنوں میں آگ کے 6,655 مقامات ریکارڈ کیے گئے، جبکہ 29 اکتوبر کو 1,327 مقامات پر آگ کی نشاندہی ہوئی۔ اوکاڑہ 2,144 مقامات کے ساتھ سرفہرست رہا، جبکہ گوجرانوالہ میں 1,011 اور ننکانہ صاحب میں 1,003 مقامات سامنے آئے۔

ماہرین کے مطابق فصلوں کی باقیات جلانے سے اٹھنے والا دھواں، گاڑیوں اور صنعتوں سے خارج ہونے والے آلودہ مادوں کے ساتھ مل کر اسموگ کی شدت بڑھاتا ہے۔ کم رفتار ہوائیں اور فضا میں درجہ حرارت کی الٹی صورت حال بھی آلودگی کو زمین کے قریب روک سکتی ہے۔

فضائی آلودگی صحت کے لیے سنگین خطرہ

ماحولیاتی ماہر اور محقق آصف مہمند کے مطابق پاکستان میں فضائی آلودگی صحتِ عامہ کے لیے ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، تاہم اس سے نمٹنے کے لیے حکومتی اقدامات ناکافی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گاڑیوں کا دھواں جبکہ پنجاب میں فصلوں کی باقیات جلانا اسموگ کی اہم وجوہات میں شامل ہیں۔ سڑکوں، تعمیراتی سرگرمیوں اور بازاروں سے اٹھنے والی گردوغبار بھی فضائی آلودگی میں اضافہ کرتی ہے۔

آصف مہمند کے مطابق آلودہ ہوا بچوں اور دیگر حساس افراد میں دمہ اور سانس کی بیماریوں کا خطرہ بڑھاتی ہے۔ ان کے مشاہدے میں گزشتہ دو سے تین سال کے دوران اسپتالوں میں سانس کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، تاہم اس رجحان کی تصدیق کے لیے جامع اعدادوشمار ضروری ہیں۔

انہوں نے زور دیا کہ اسموگ پر قابو پانے کے لیے گاڑیوں کے دھوئیں میں کمی کے ساتھ صنعتی آلودگی پر کنٹرول، فصلوں کی باقیات جلانے کی روک تھام، بہتر شہری منصوبہ بندی اور صحت کے اثرات کی مؤثر نگرانی پر مشتمل طویل المدتی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔

فضائی معیار میں بہتری کے دعوے پر سوالات

دوسری جانب پاکستان ایئر کوالٹی انیشی ایٹو (پی اے کیو آئی) کے مطابق، اکتوبر 2026 میں لاہور کے 26 مانیٹرنگ مقامات پر پی ایم 2.5 کی اوسط مقدار گزشتہ سال کے اسی مہینے کے مقابلے میں 27 فیصد کم رہی۔

یہ اعدادوشمار حکومت کے اس دعوے کے تناظر میں سامنے آئے ہیں کہ لاہور میں گزشتہ پانچ سال کے مقابلے میں رواں سال اکتوبر کے دوران فضائی معیار بہتر رہا۔ تاہم، آلودگی کی موجودہ خطرناک سطح ظاہر کرتی ہے کہ اسموگ پر قابو پانے کے لیے مسلسل اور مؤثر اقدامات کی ضرورت برقرار ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے