پاکستان کے افغانستان پر جوابی فضائی حملے: 3 صوبوں میں 10 اہداف نشانہ، طالبان کا سخت ردِعمل
افغانستان کی طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان نے گزشتہ رات افغانستان کے صوبوں قندھار، پکتیا اور خوست میں فضائی حملے کیے، جن کے نتیجے میں چار افغان شہری جان بحق ہوئے ہیں۔ دوسری جانب پاکستان نے افغانستان میں 10 مقامات کو فضائی اور ڈرون کارروائیوں میں نشانہ بنانے کی تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں افغان سرزمین سے پاکستان کی جانب آنے والے ڈرونز کے جواب میں کی گئیں۔
افغان طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اپنے بیان میں پاکستانی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے انہیں افغانستان کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور جارحیت قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ افغان حکومت ان حملوں کے خلاف ’’مناسب اور فیصلہ کن جواب‘‘ دے گی۔
ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق پاکستانی فوجی حلقوں نے حملوں کا جواز پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ افغانستان سے ڈرونز پاکستان کی حدود میں داخل ہوئے تھے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان نے اپنے داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کے لیے افغان سرزمین پر فضائی کارروائی کی۔
دوسری جانب وفاقی وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے پریس کانفرنس میں کہا کہ 23 ستمبر کو افغان سرزمین سے ڈرونز کے ذریعے پاکستان میں دراندازی کی گئی۔ ریڈیو پاکستان کے مطابق وزیر اطلاعات نے اسے پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی قرار دیا۔
عطا اللہ تارڑ کے مطابق پاکستان کے فضائی دفاعی نظام نے آنے والے تمام ڈرونز کا سراغ لگایا اور انہیں اپنے اہداف تک پہنچنے سے قبل ناکارہ بنا دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس کے بعد پاکستان نے اپنے دفاع کے حق کو استعمال کرتے ہوئے افغانستان میں 10 مقامات کو فضائی اور ڈرون کارروائیوں کا نشانہ بنایا۔
وزیر اطلاعات کے مطابق جن مقامات کو نشانہ بنایا گیا وہ ڈرونز کی لانچنگ اور ذخیرہ کرنے کے لیے استعمال ہو رہے تھے۔ ڈان کے مطابق عطا اللہ تارڑ نے کارروائیوں کو ’’درست، نپی تلی اور متناسب‘‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انہیں ان فوجی اہداف تک محدود رکھا گیا جن کا پاکستان کے خلاف ڈرون حملوں کی کوششوں سے براہِ راست تعلق تھا۔
افغانستان سے متعلق اے ایف پی کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ افغان حکام نے قندھار، پکتیا اور خوست میں پاکستانی فضائی کارروائیوں کی اطلاع دی ہے، تاہم مختلف مقامات پر ہونے والے نقصانات اور جانی نقصان سے متعلق اطلاعات میں یکسانیت نہیں ہے۔
امو ٹی وی کے مطابق مقامی افغان حکام اور ذرائع نے قندھار شہر، پکتیا اور خوست میں مختلف مقامات کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاع دی۔ رپورٹ کے مطابق پکتیا میں طالبان کے 203ویں منصوری کور کے ایک کمپاؤنڈ کو بھی نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ہیں، جبکہ خوست کے مقامی حکام نے حملوں میں جانی نقصان نہ ہونے کی اطلاع دی ہے۔
پاکستانی حکومت کا مؤقف ہے کہ وہ خطے میں کشیدگی نہیں چاہتی اور امن، مذاکرات اور تعمیری روابط کے لیے پرعزم ہے، تاہم افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف حملوں کی صورت میں کارروائی کا حق محفوظ رکھتی ہے۔
رائٹرز کے مطابق یہ تازہ کارروائیاں ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور دونوں جانب سے ایک دوسرے پر عسکریت پسندوں کی موجودگی یا حمایت کے الزامات عائد کیے جاتے رہے ہیں۔ طالبان حکومت پاکستان کی جانب سے افغان سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کیے جانے کے الزامات کی تردید کرتی ہے۔
دونوں جانب سے سامنے آنے والے دعووں کے مکمل آزادانہ طور پر تصدیق شدہ شواہد فوری طور پر دستیاب نہیں ہیں، جبکہ جانی نقصان اور حملوں کے اہداف سے متعلق افغان اور پاکستانی مؤقف میں بھی فرق ہے۔