پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ حیات آباد پشاور میں 7ستمبر کو طلبہ کے احتجاج اور بعد ازاں پولیس کی مداخلت کے واقعہ کی انکوائری رپورٹ میں کالج کی انتظامی صورتحال، طلبہ کے مسائل اور احتجاج میں مبینہ طور پر ملوث افراد کے حوالے سے اہم سفارشات پیش کردی گئی ہیں۔
محکمہ صحت خیبر پختونخوا کی جانب سے 8ستمبر کو سیکرٹری صحت کو بھجوائی گئی رپورٹ میں انکوائری کمیٹی نے کالج کی پرنسپل بی بی سلطانیہ کو تبدیل کرکے زیادہ تجربہ کار اور انتظامی صلاحیت رکھنے والے افسر کو تعینات کرنے جبکہ گرلز ہاسٹل کی وارڈن مہتاب کو بھی تبدیل کرنے کی سفارش کی ہے۔
کمیٹی نے دو طلبہ محمد سراج اور عباس خان کی جانب سے فیکلٹی کو ہراساں کرنے، کلاسز میں خلل ڈالنے، باہر کے افراد کو اکٹھا کرنے اور کالج کا گیٹ لاک کرنے کے الزامات کے پیش نظر انہیں فوری طور پر ادارے سے نکالنے کی سفارش بھی کی ہے۔
تین رکنی انکوائری کمیٹی میں محکمہ صحت کے سپیشل سیکرٹری بطور چیئرمین، ڈائریکٹر جنرل پی ایچ ایس اے اور ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ سروسز شامل تھے۔
کمیٹی نے 7ستمبر کی شب تقریباً 8بجے پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ حیات آباد کا دورہ کیا اور تقریباً رات 12 بج کر 50 منٹ تک کارروائی جاری رکھی۔
کمیٹی نے احتجاج کرنے والے طلبہ کے بیانات قلمبند کرنے کے علاوہ پرنسپل، فیکلٹی ممبران اور دیگر متعلقہ افراد سے معلومات حاصل کیں جبکہ کالج کے احاطے، اردگرد کے علاقے اور احتجاج کے مقام کا بھی معائنہ کیا۔
رپورٹ کے مطابق طلبہ کے احتجاج کے پس منظر میں ہاسٹل میں رہائش، جرمانوں، چھٹیوں پر پابندی، امتحانات سے متعلق مسائل، کلینیکل ٹریننگ، میس کی سہولیات اور بعض فیکلٹی ممبران کی جانب سے مبینہ نامناسب رویے اور زبان کے استعمال سے متعلق شکایات شامل تھیں۔
کمیٹی نے طلبہ کے ان مسائل اور شکایات کے ساتھ ساتھ احتجاج کے بعد پولیس کی مداخلت اور اس کے نتیجے میں پیش آنے والے واقعات کا بھی جائزہ لیا۔
انکوائری رپورٹ میں قرار دیا گیا ہے کہ جن طلبہ کے خلاف نظم و ضبط کی خلاف ورزی یا بدعنوانی کے شواہد سامنے آئے ہیں انہیں کالج کے قواعد کے تحت ڈسپلنری کمیٹی کے سامنے پیش کیا جائے تاکہ ان کی ذمہ داری کا تعین کرتے ہوئے قواعد کے مطابق کارروائی کی جاسکے تاہم محمد سراج اور عباس خان کے بارے میں کمیٹی نے الگ سے سفارش کی ہے کہ فیکلٹی کو ہراساں کرنے، کلاسز میں خلل ڈالنے، باہر کے افراد کو اکٹھا کرنے اور گیٹ لاک کرنے کے الزامات کے باعث انہیں فوری طور پر کالج سے نکالا جاسکتا ہے۔
کمیٹی نے گرلز ہاسٹل کی وارڈن مہتاب کو بھی تبدیل کرنے کی سفارش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی جگہ ایسا ذمہ دار اور باصلاحیت افسر تعینات کیا جائے جو ہاسٹل میں نظم و ضبط یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ طلبہ کی شکایات کا موثر اور بروقت ازالہ بھی کرسکے۔ اسی طرح کالج کی پرنسپل مسز بی بی سلطانیہ کو تبدیل کرکے ایسے زیادہ قابل اور تجربہ کار افسر کو تعینات کرنے کی سفارش کی گئی ہے جس کے پاس انتظامی صلاحیت، موثر ابلاغ اور بحران سے نمٹنے کی ثابت شدہ صلاحیت موجود ہو۔
رپورٹ میں مزید سفارش کی گئی ہے کہ فیکلٹی کی رہائش گاہوں میں مقیم مرد طلبہ کو فوری طور پر وہاں سے نکالا جائے کیونکہ مذکورہ رہائشی سہولت مرد طلبہ کے ہاسٹل کے طور پر مختص نہیں ہے۔
کمیٹی نے کالج انتظامیہ کو ہدایت کی ہے کہ تمام طلبہ کے لیے سازگار، باعزت اور محفوظ تعلیمی ماحول برقرار رکھنے کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں اور طلبہ کی جائز شکایات کو ادارہ جاتی طریقہ کار کے ذریعے حل کیا جائے۔
انکوائری کمیٹی نے واضح کیا ہے کہ کسی بھی بیرونی شخص یا دوسرے ادارے کے طالب علم کو پوسٹ گریجویٹ کالج آف نرسنگ کے پرامن ماحول میں مداخلت یا اسے متاثر کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ قواعد کی خلاف ورزی یا بدسلوکی کے مرتکب کسی بھی شخص کے خلاف، جہاں ضروری ہو، مقررہ قواعد اور قانونی تقاضوں کے مطابق کارروائی کی جائے۔پولیس کے کردار کے حوالے سے انکوائری کمیٹی نے سفارش کی ہے کہ پولیس کی جانب سے کسی بھی مبینہ زیادتی، اقدام یا غفلت کی الگ سے انکوائری یا تحقیقات کرائی جائیں کیونکہ پولیس ایک آزاد ادارہ ہے اور پولیس ایکٹ 2017 کے تحت کام کرتی ہے۔
کمیٹی نے قرار دیا ہے کہ طلبہ کی جائز شکایات کو غیر جانب دارانہ اور فوری طور پر حل کیا جائے تاہم طلبہ کو بھی ہدایت کی جائے کہ وہ اپنے مسائل کے حل کے لیے ادارے میں مقررہ طریقہ کار اختیار کریں اور کالج کے اندر نظم و ضبط اور قانونی حدود کی پابندی کریں۔
انکوائری کمیٹی نے مجموعی طور پر قرار دیا ہے کہ 7ستمبر کا واقعہ طلبہ کی جانب سے ہاسٹل، ڈسپلن، چھٹیوں، امتحانات، کلینیکل ٹریننگ، میس اور بعض فیکلٹی ممبران کے مبینہ نامناسب رویے سمیت مختلف شکایات کے پس منظر میں شروع ہوا، جو بعد ازاں احتجاج، پولیس کی مداخلت اور بعض طلبہ کی حراست تک جا پہنچا۔
کمیٹی نے انتظامیہ کو طلبہ اور فیکلٹی کے درمیان رابطہ بہتر بنانے اور مستقبل میں ایسے واقعات کی روک تھام کے لیے موثر اقدامات اٹھانے کی سفارش کی ہے۔
حیات آباد نرسنگ کالج واقعہ: انکوائری مکمل، طلبہ کے خلاف کارروائی اور پرنسپل کی تبدیلی کی سفارش