احمد الیاس :
زرعی یونیورسٹی پشاور میں بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں لیکچرر کی مشتہر آسامیوں پر بھرتی کے عمل کے حوالے سے قواعد و ضوابط کے اطلاق سے متعلق سوالات سامنے آئے ہیں، جہاں ایک امیدوار کو مبینہ طور پر انٹری ٹیسٹ کے بغیر سلیکشن بورڈ کے سامنے پیش کیے جانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور نے 2015 میں بایوٹیکنالوجی کے شعبے میں لیکچرر کی پانچ آسامیاں مشتہر کی تھیں، جن کے لیے اہلیت کا معیار بایوٹیکنالوجی میں ماسٹر ڈگری مقرر کیا گیا تھا۔
مذکورہ آسامیوں کے لیے درخواست دینے والوں میں ایک خاتون امیدوار بھی شامل تھیں، جنہوں نے قائداعظم یونیورسٹی اسلام آباد سے بایوانفارمیٹکس میں ماسٹر ڈگری حاصل کر رکھی ہے۔ذرائع کے مطابق بایوانفارمیٹکس کا شعبہ 2015 کے اشتہار کے وقت یونیورسٹی میں موجود نہیں تھا بلکہ اسے 2020 میں بایوٹیکنالوجی انسٹی ٹیوٹ میں سینیڈیکیٹ کی منظوری سے متعارف کرایا گیا۔
باخبر ذرائع کے مطابق یونیورسٹی کے طریقہ کار کے تحت لیکچرر کی تقرری کے لیے امیدواروں کا تیسرے فریق کے ذریعے انٹری ٹیسٹ لیا گیا، جبکہ اسی طریقہ کار کے تحت نومبر 2021 میں ایٹا کے ذریعے انٹری ٹیسٹ بھی منعقد کیا گیا تھا، جبکہ اس حوالے سے سپریم کورٹ کے 2021 کے فیصلے کا بھی حوالہ دیا جاتا ہے۔
ذرائع کے مطابق مذکورہ خاتون امیدوار کے والد، جو اس وقت یونیورسٹی میں پروفیسر تھے اور اب ریٹائر ہو چکے ہیں، یونیورسٹی کے سلیکشن بورڈ کے رکن ہیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ مذکورہ امیدوار کو اس سے قبل بھی مبینہ طور پر ایٹا انٹری ٹیسٹ کے بغیر زبانی تدریسی ٹیسٹ کے لیے بلائے جانے کا معاملہ سامنے آیا تھا۔
ذرائع کے مطابق سابق وائس چانسلر ڈاکٹر جہان بخت کے دور میں مذکورہ امیدوار کو مبینہ طور پر ایٹا انٹری ٹیسٹ کے بغیر زبانی تدریسی ٹیسٹ کے لیے بلایا گیا، جبکہ اب موجودہ قائم مقام وائس چانسلر کے دور میں بھی انہیں مبینہ طور پر 9 اور 10 ستمبر کو ہونے والے سلیکشن بورڈ کے لیے انٹرویو کا خط جاری کیا گیا ہے۔
باخبر ذرائع کے مطابق مذکورہ پیش رفت کے بعد ان امیدواروں کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا ہے جنہوں نے مقررہ انٹری ٹیسٹ میں حصہ لیا تھا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ معاملے میں بنیادی سوال یہ ہے کہ 2015 میں بایوٹیکنالوجی کے لیے مشتہر آسامیوں پر بعد میں متعارف ہونے والے بایوانفارمیٹکس شعبے سے متعلق امیدوار کی اہلیت اور انٹری ٹیسٹ کے طریقہ کار کا اطلاق کس طرح کیا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق متعلقہ حکام اس معاملے کا جائزہ لیتے ہوئے بھرتی کے عمل میں مقررہ قواعد و ضوابط اور یکساں طریقہ کار پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے تاکہ تمام امیدواروں کے حقوق کا تحفظ ہو سکے۔
اس معاملے پر یونیورسٹی آف ایگریکلچر پشاور کے وائس چانسلر اور رجسٹرار سے موقف کے لیے رابطہ کیا گیا۔ وائس چانسلر نے بتایا کہ سوال نامہ رجسٹرار کو جواب کے لیے بھیج دیا گیا ہے، تاہم خبر کی اشاعت تک رجسٹرار کی جانب سے کوئی باضابطہ جواب موصول نہیں ہوا۔