واخان راہداری: برفانی درہ یا ایشیا کا نیا تجارتی دروازہ؟

تحریر و تحقیق: انجینئر عبدالولی خان

افغانستان کے شمال مشرق میں واقع تنگ مگر انتہائی اہم خطہ واخان کوریڈور (Wakhan Corridor) ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن رہا ہے۔ تقریباً 350 سے 400 کلومیٹر طویل اور 10 سے 60 کلومیٹر چوڑا یہ برفانی علاقہ افغانستان، چین، پاکستان اور تاجکستان کے سنگم پر واقع ہے، جو صدیوں سے قدیم سلک روٹ کا حصہ رہا ہے۔ آج یہ علاقہ نیو سلک روٹ (BRI) کے ممکنہ دروازے کے طور پر ابھر رہا ہے۔

جغرافیائی و سرحدی اہمیت

واخان کوریڈور افغانستان کے صوبہ بدخشان میں واقع ہے، جس کی سرحدیں:

چین سے 92 کلومیٹر (واخجیر پاس)،

پاکستان سے 100 کلومیٹر (بروغل اور ارشاد پاس)،

تاجکستان سے 300 کلومیٹر تک پھیلی ہوئی ہیں۔

بلند ترین مقام واخجیر پاس (4,923 میٹر) ہے، جسے “ایشیا کا برفانی دروازہ” کہا جاتا ہے۔ قریبی اہم شہر اشکاشم، فیض آباد (افغانستان) اور چترال (پاکستان) ہیں۔

ممکنہ واخان اکنامک راہداری (Wakhan Economic Corridor)

واخان کوریڈور کو چین کے بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو (BRI) سے جوڑنے کی تجویز پر عالمی سطح پر غور کیا جا رہا ہے۔ مجوزہ روٹ درج ذیل ہے:

  1. کاشغر (چین) → واخجیر پاس (چین-افغانستان)
  2. واخان وادی → اشکاشم → فیض آباد (افغانستان)
  3. بروغل پاس → چترال (پاکستان)
  4. گوادر بندرگاہ (پاکستان)

اگر یہ منصوبہ مکمل ہوا تو:

چین کو بحیرہ عرب تک براہِ راست زمینی رسائی حاصل ہوگی۔

افغانستان عالمی تجارت کا حصہ بن سکے گا۔

تاجکستان اور وسطی ایشیا کو جنوبی سمندر تک راستہ ملے گا۔

پاکستان وسطی ایشیا سے براہِ راست جڑ جائے گا۔

اقتصادی و تجارتی اثرات

ملک ممکنہ فوائد

چین وسطی ایشیا و مشرقِ وسطیٰ تک زمینی تجارت میں اضافہ، روس پر انحصار کم۔
روس ٹرانزٹ فیس میں کمی، وسطی ایشیا پر اثر میں کمی۔
افغانستان ٹرانزٹ فیس، روزگار، سرمایہ کاری اور علاقائی اہمیت میں اضافہ۔
پاکستان گوادر کی اہمیت میں اضافہ، توانائی و تجارت میں وسعت۔
وسطی ایشیا نئی منڈیوں تک رسائی، روسی دباؤ سے آزادی۔
ایران اگر شامل ہوا تو فائدہ؛ بصورتِ دیگر متبادل راستے سے مسابقت۔

روس اور چین کی حکمتِ عملی

روس کے لیے یہ راہداری قلیل مدتی چیلنج اور طویل مدتی خطرہ بن سکتی ہے، کیونکہ وسطی ایشیائی ریاستیں روسی اثر سے نکل کر جنوب کی طرف متبادل راستے تلاش کر سکتی ہیں۔
چین کے لیے یہ منصوبہ CPEC کی “قدرتی توسیع” ثابت ہو سکتا ہے، جو سنکیانگ کو افغانستان، پاکستان اور ایران سے جوڑ دے گا۔

وسطی ایشیائی اثرات

تاجکستان، ازبکستان، ترکمانستان اور کرغیزستان کو اب “Landlocked” کے بجائے “Land-Linked” خطوں میں تبدیل ہونے کا موقع مل سکتا ہے۔ تاہم داخلی انتشار، قرضوں کا دباؤ اور علاقائی سیاست ان کے لیے چیلنج رہیں گے۔

افغانستان کے لیے مواقع و خطرات

واخان کوریڈور افغانستان کو خطے کا اقتصادی ریڑھ کی ہڈی بنا سکتا ہے۔ ٹرانزٹ فیس، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور مقامی روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔
البتہ طالبان حکومت پر عالمی پابندیاں، داعش و ETIM جیسے گروہوں کی سرگرمیاں اور ماحولیاتی اثرات خطرات میں شامل ہیں۔

پاکستان کے لیے امکانات

واخان راہداری پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک زمینی تجارت کا راستہ کھول سکتی ہے۔

گوادر بندرگاہ کی اہمیت بڑھے گی۔

CPEC کی توسیع اور نئی سرمایہ کاری ممکن ہوگی۔

توانائی کی درآمد میں آسانی آئے گی۔

البتہ سیکیورٹی خدشات، چین و روس کے درمیان توازن، اور بھارتی سفارتی دباؤ چیلنج رہیں گے۔

ایران پر اثرات

ایران کے لیے یہ راہداری دو دھاری تلوار ہے۔

شمولیت کی صورت میں چابہار بندرگاہ نئی تجارتی قوت بن سکتی ہے۔

عدم شمولیت کی صورت میں ایران کی جغرافیائی اہمیت کم ہو سکتی ہے، اور وہ سیاسی طور پر تنہائی کا شکار بھی ہو سکتا ہے۔

مستقبل کی علاقائی صورتحال

اگر چین عملی قدم اٹھاتا ہے تو واخان راہداری نیو سلک روٹ کا مرکزی حصہ بن سکتی ہے۔
پاکستان، افغانستان، تاجکستان اور چین ایک نئے علاقائی اقتصادی بلاک کی صورت میں ابھر سکتے ہیں۔
جبکہ روس اور ایران کو اپنے تجارتی منصوبوں — مثلاً INSTC (International North-South Transport Corridor) — پر ازسرنو غور کرنا پڑے گا۔

نتیجہ

واخان کوریڈور ایشیا کے چار خطوں — جنوبی، وسطی، مشرقی اور مغربی ایشیا — کو جوڑنے والا ایک قدرتی پل ہے۔
اگر اسے تعاون اور استحکام کے اصولوں پر ترقی دی گئی تو یہ خطہ ایشیا کے لیے نئے اقتصادی دور کی بنیاد بن سکتا ہے۔
لیکن اگر اسے سیاسی رقابتوں کا میدان بنایا گیا، تو یہ ایک اور تنازعہ زدہ سرحد بننے کا خطرہ رکھتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے