خیبر میں سات سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق، پاکستان میں رواں سال کیسز کی تعداد 6 ہوگئی

CBN 247

خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر میں سات سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق کے بعد پاکستان میں رواں سال پولیو کیسز کی تعداد 6 ہوگئی ہے، جن میں سے 5 کیسز خیبر پختونخوا سے رپورٹ ہوئے ہیں۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشنز سینٹر (NEOC) برائے انسدادِ پولیو کے مطابق ضلع خیبر کی تحصیل جمرود کے یونین کونسل غنڈی اے سے تعلق رکھنے والے سات سالہ بچے میں پولیو وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

حکام کے مطابق پاکستان پولیو ارڈیکیشن انیشی ایٹو نے کیس کی جامع تحقیقات شروع کردی ہیں، جبکہ متاثرہ اور دیگر ہائی رسک علاقوں میں بچوں تک ویکسین کی رسائی مزید بڑھانے کے لیے اضافی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔

ان اقدامات میں بڑی عمر کے بچوں کو اورل پولیو ویکسین (OPV) کے ساتھ ساتھ انجیکٹیبل پولیو ویکسین (IPV) کی فراہمی، جبکہ معمول کی حفاظتی ویکسینیشن کو مزید مؤثر بنانا بھی شامل ہے۔

رواں سال رپورٹ ہونے والے 6 پولیو کیسز میں سے 5 خیبر پختونخوا سے سامنے آئے ہیں، جن میں 4 کیسز صوبے کے جنوبی اضلاع سے رپورٹ ہوئے ہیں۔ حکام کے مطابق ملک میں مجموعی طور پر پولیو وائرس کی منتقلی میں 2025 کے مقابلے میں کمی آئی ہے، تاہم جنوبی خیبر پختونخوا اور خیبر۔پشاور کے مرکزی پولیو ذخائر میں وائرس کی منتقلی اب بھی برقرار ہے۔

پولیو ویکسینیشن کے نتیجے میں پاکستان میں پولیو کیسز میں گزشتہ تین دہائیوں کے دوران نمایاں کمی آئی ہے۔ حکام کے مطابق 1990 کی دہائی کے آغاز میں ملک میں پولیو کے اندازاً 20 ہزار کیسز رپورٹ ہوتے تھے، جو 2025 میں کم ہو کر 31 رہ گئے، جبکہ رواں سال اب تک 6 کیسز سامنے آئے ہیں۔

پولیو ایک انتہائی متعدی اور لاعلاج بیماری ہے جو بچوں میں مستقل معذوری اور بعض صورتوں میں موت کا سبب بن سکتی ہے، تاہم محفوظ اور مؤثر ویکسین کے ذریعے اس سے بچاؤ ممکن ہے۔

حکام کے مطابق 2026 کے دوران پاکستان میں اب تک پولیو کے خلاف 4 بڑے ملک گیر مہمات منعقد کی جا چکی ہیں، جن کے دوران 4 کروڑ 50 لاکھ سے زائد بچوں کو متعدد بار ویکسین پلائی گئی۔ اس کے علاوہ ہائی رسک علاقوں میں ہدفی بنیادوں پر اورل اور انجیکٹیبل ویکسینیشن مہمات بھی جاری رہی ہیں۔

گزشتہ ماہ ملک کے مختلف حصوں میں ہونے والی ذیلی سطح کی پولیو مہم کے دوران 2 کروڑ 93 لاکھ سے زائد بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلائے گئے۔
پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے والدین، صحت کے کارکنوں، مذہبی رہنماؤں، مقامی برادریوں اور میڈیا کے کردار کو اہم قرار دیتے ہوئے حکام نے کہا ہے کہ ہر بچے کو ویکسین کی تمام تجویز کردہ خوراکیں دلوانا ضروری ہے۔

پولیو ورکرز بچوں کو ان کے گھروں کی دہلیز پر ویکسین فراہم کر رہے ہیں، تاہم والدین اور سرپرستوں سے اپیل کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کو پولیو ویکسین کے ساتھ معمول کی حفاظتی ویکسینیشن بھی مکمل کروائیں تاکہ پاکستان کو پولیو سے پاک ملک بنانے کا ہدف حاصل کیا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے