پشاور: انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز میں ریزرو فنڈ معطل، گردوں کے مریض شدید مشکلات سے دوچار

پشاور کے انسٹیٹیوٹ آف کڈنی ڈیزیز (IKD) میں ریزرو فنڈ ایک بار پھر بند ہونے سے ڈائلیسز پر انحصار کرنے والے سینکڑوں مریض شدید مشکلات کا شکار ہو گئے ہیں۔ صحت کارڈ پلس کے تحت مختص چار لاکھ روپے کی حد ختم ہونے کے بعد مریضوں کے لیے علاج کے اخراجات اپنی جیب سے ادا کرنا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے، جبکہ ریزرو فنڈ کے اجرا میں تاخیر صورتحال کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق مقررہ رقم ختم ہونے پر مریض کی درخواست پر ریزرو فنڈ جاری کیا جاتا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ حال ہی میں سٹیٹ لائف انشورنس کمپنی کو فنڈ منتقل کر دیا گیا ہے اور جن مریضوں کی رقم ختم ہو چکی ہے انہیں مرحلہ وار ادائیگی کی جائے گی۔ تاہم دفتری کارروائی کے باعث اس عمل میں چند ہفتے لگ سکتے ہیں۔

درہ آدم خیل کے سید محمد خان کے مطابق وہ ہفتے میں دو بار والدہ کو ڈائلیسز کے لیے پشاور لاتے ہیں اور گزشتہ دو ماہ سے انہیں ہر بار تقریباً 2,300 روپے علاج جبکہ 2,500 سے 3,000 روپے کرایہ ادا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک ڈائلیسز پر صحت کارڈ سے 6,600 روپے کٹ جاتے ہیں جس سے چار لاکھ کی حد چند ماہ میں ختم ہو جاتی ہے۔

لنڈی کوتل کے ساجد آفریدی نے بتایا کہ ان کی والدہ کے کارڈ میں ایک لاکھ روپے سے بھی کم رقم باقی ہے، اور فنڈ ختم ہونے کے بعد انہیں قرض لے کر علاج کرانا پڑتا ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ گردوں، دل اور کینسر جیسے مہنگے امراض کے مریضوں کے لیے صحت کارڈ کی رقم میں اضافہ کیا جائے تاکہ علاج کے دوران رکاوٹ نہ آئے۔

انہوں نے مزید نشاندہی کی کہ ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال لنڈی کوتل میں ڈائلیسز مشین گزشتہ پندرہ برس سے غیر فعال ہے، جس کے باعث بیس سے زائد مریض ہفتے میں دو بار پشاور آنے پر مجبور ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلیٰ سے فوری نوٹس لینے اور مشین فعال کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے