سی بی این رپورٹ
پاکستان کے صوبہ پنجاب کے شہر لاہور کی چیمبر آف کامرس نے کہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ تجارت پر پابندی کی وجہ سے پاکستان کو ماہانہ 300 ملین ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑ رہا ہے۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر سے آمد و رفت اور تجارت کے تمام راستے بند ہیں۔ دونوں ممالک کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور کشیدگی کے باعث راستے بند کیے گئے ہیں، اور متعدد رابطوں اور مذاکرات کے باوجود یہ راستے تاحال بند ہیں۔
لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر فہیم الرحمان نے کہا کہ پاکستان کی سرحدیں افغانستان، ایران اور بھارت سے ملتی ہیں، لیکن ایران پر پابندیوں کے باعث اس ملک کے ساتھ تجارت ممکن نہیں، جبکہ افغانستان واحد ملک تھا جس کے ساتھ پاکستان تجارت کر سکتا تھا۔
انہوں نے انڈیپنڈنٹ اردو سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور افغانستان کے درمیان تجارت کا حجم تقریباً دو سے اڑھائی ارب ڈالر تھا، اور افغانستان ان ممالک میں شامل ہے جہاں پاکستان کی برآمدات زیادہ اور درآمدات کم ہیں۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان سے پاکستان سبزیاں، خشک میوہ جات اور کوئلہ درآمد کیا جاتا تھا، جبکہ پاکستان سے افغانستان کو ادویات، ٹیکسٹائل، قالین اور دیگر کئی اشیاء برآمد کی جاتی ہیں۔ مزید یہ کہ افغانستان پاکستان کے لیے وسطی ایشیا تک رسائی کا راستہ ہے، اسی لیے افغانستان کے ساتھ سرحد انتہائی اہم ہے۔
ان کے مطابق سرحدوں کی بندش کے باعث نہ صرف پاکستان اور افغانستان کے درمیان براہِ راست تجارت متاثر ہوئی ہے بلکہ وسطی ایشیا کے ساتھ تجارت بھی بری طرح متاثر ہوئی ہے۔
فہیم الرحمان نے کہا کہ افغانستان اور پاکستان دونوں زرعی ممالک ہیں، اس لیے اس شعبے میں دونوں ممالک کو بھاری نقصان ہو رہا ہے اور پاکستان کو ماہانہ 300 ملین ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ سی پیک بھی اسی مقصد کے لیے بنایا گیا تھا کہ پاکستان کو وسطی ایشیا تک رسائی حاصل ہو، لیکن راستوں کی بندش سے دونوں ممالک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ تائیوان اور چین کے درمیان کشیدگی ہے، براہِ راست پروازیں بھی نہیں ہیں، لیکن اس کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان تجارت جاری ہے۔