محمود جان بابر نے واقعے کا نوٹس لے لیا، ڈی پی او خیبر سے رپورٹ طلب
پشاور: خیبر پختونخوا کے ضلع خیبر کے علاقے لنڈی کوتل میں پریس کلب کے اندر پولیس یونیفارم میں ملبوس نقاب پوش مسلح افراد کے داخل ہونے اور تلاشی لینے کے واقعے نے صحافیوں کے تحفظ اور پریس کلبوں کی سیکیورٹی سے متعلق سوالات اٹھا دیے ہیں۔ حکام نے واقعے کا نوٹس لیتے ہوئے ضلعی پولیس سربراہ سے رپورٹ طلب کر لی ہے۔
ایریا ڈیولپمنٹ سیکریٹریٹ کے مشیر برائے اطلاعات محمود جان بابر نے اتوار، 25 اکتوبر کو جاری بیان میں کہا کہ انہوں نے واقعے کا نوٹس لیا ہے اور اس کی اصل حقیقت جاننے کے لیے تحقیقات کی جا رہی ہیں۔
انہوں نے ضلع خیبر کے ڈسٹرکٹ پولیس افسر سے واقعے کی رپورٹ طلب کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ انتظامیہ صحافیوں کو کسی صورت تنہا نہیں چھوڑے گی اور ان کے مسائل کے حل کے لیے ان کے ساتھ کھڑی رہے گی۔
محمود جان بابر کا کہنا تھا کہ صحافی معاشرے کی آنکھیں اور کان ہیں اور ان کے کردار اور اہمیت کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔
واقعے سے متعلق اطلاعات کے مطابق اتوار کی شام پولیس یونیفارم پہنے اور چہرے ڈھانپے ہوئے متعدد مسلح افراد لنڈی کوتل پریس کلب میں داخل ہوئے اور وہاں تلاشی لی۔ اس وقت پریس کلب میں دو صحافی اور ایک ملازم موجود تھے۔
تاہم، تاحال ان افراد کی شناخت، پریس کلب میں داخلے کے مقصد اور تلاشی لینے کے قانونی جواز کے بارے میں سرکاری طور پر کوئی تفصیلات سامنے نہیں آئیں۔
واقعے کی تحقیقات میں یہ معلوم کرنا اہم ہوگا کہ آیا پریس کلب میں داخل ہونے والے افراد کا تعلق پولیس یا کسی دوسرے سرکاری ادارے سے تھا، اور اگر وہ کسی سرکاری کارروائی کے لیے وہاں گئے تھے تو ان کے داخلے کی قانونی حیثیت کیا تھی۔
اس واقعے کی وضاحت نہ صرف صحافیوں کے تحفظ بلکہ میڈیا کی آزادانہ سرگرمیوں اور قانون کی حکمرانی کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے۔
حکام کی جانب سے تحقیقات کے نتائج اور مسلح افراد کی شناخت کے بارے میں مزید معلومات کا انتظار ہے۔