ریاض حسین
پشاور : پاکستان میں ذہنی صحت کا بحران سنگین ہے۔ قومی سطح کے ایک جامع سروے کے مطابق تقریباً ہر تین میں سے ایک بالغ شخص کسی قابلِ تشخیص ذہنی یا رویّاتی عارضے کا شکار ہے، جبکہ ماہرین کی کمی اور علاج تک محدود رسائی مسئلے کو مزید پیچیدہ بنا رہی ہے۔
BMJ Public Health میں اکتوبر 2026 میں شائع تحقیق کے مطابق 2019 سے 2022 کے دوران چاروں صوبوں میں 18 سال یا اس سے زائد عمر کے 17,773 افراد کے انٹرویوز کیے گئے۔ اسے پاکستان میں ذہنی و رویّاتی امراض کی شرح معلوم کرنے والا پہلا قومی سطح کا نمائندہ سروے قرار دیا گیا ہے۔
تحقیق کے مطابق 32.3 فیصد افراد میں موجودہ ذہنی یا رویّاتی عارضہ پایا گیا، جبکہ 37.9 فیصد نے زندگی میں کسی مرحلے پر ایسے مسائل کا سامنا کیا تھا۔ نیوروٹک اور ذہنی دباؤ سے متعلق امراض کی شرح 24.5 فیصد، پوسٹ ٹرامیٹک اسٹریس ڈس آرڈر (پی ٹی ایس ڈی) 19.9 فیصد اور موڈ ڈس آرڈرز 11.6 فیصد ریکارڈ کیے گئے۔
صدمات اور معاشی دباؤ کے اثرات
کورونا وبا، سیلاب، قدرتی آفات، مہنگائی، بے روزگاری اور سماجی و سیاسی کشیدگی ذہنی دباؤ میں اضافے کا سبب بن سکتے ہیں۔ پی ٹی ایس ڈی کی علامات میں صدمے کی بار بار یاد، ڈراؤنے خواب، بے چینی، نیند کی خرابی اور متعلقہ یاد دہانیوں سے گریز شامل ہو سکتے ہیں، تاہم تشخیص کے لیے طبی ماہر کا جائزہ ضروری ہے۔
تحقیق میں 40 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد، خواتین، شہری آبادی، علیحدہ یا طلاق یافتہ خواتین، بیواؤں اور کم تعلیم یافتہ افراد میں ذہنی امراض کا بوجھ نسبتاً زیادہ پایا گیا۔ اس کے برعکس تعلیم اور آمدنی کی بلند سطح کے ساتھ شرح کم ہونے کا تعلق سامنے آیا، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ذہنی صحت پر سماجی و معاشی حالات بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
خودکشی کے خیالات
سروے میں تقریباً 6 فیصد افراد نے بتایا کہ گزشتہ ایک ماہ میں ان کے ذہن میں خودکشی کے خیالات آئے، جبکہ تقریباً ایک فیصد نے زندگی میں کم از کم ایک بار خودکشی کی کوشش کی تھی۔ ایسے افراد کو سنجیدگی سے سننا، تنہا نہ چھوڑنا اور فوری طبی یا نفسیاتی مدد فراہم کرنا ضروری ہے۔
ماہرین اور علاج کی شدید کمی
اقوام متحدہ اور عالمی ادارۂ صحت کی 2 اکتوبر 2026 کی رپورٹ کے مطابق پاکستان میں تقریباً 3 کروڑ 24 لاکھ افراد کو ذہنی صحت کی دیکھ بھال درکار ہے، مگر صرف 5 فیصد آبادی کو خدمات تک رسائی حاصل ہے؛ علاج کی کمی کا خلا تقریباً 95 فیصد ہے۔ ہر ایک لاکھ افراد کے لیے تقریباً 0.19 سائیکاٹرسٹ دستیاب ہیں، جبکہ بلند آمدنی والے ممالک میں یہ اوسط تقریباً سات ہے۔
BMJ Public Health کی تحقیق کے مطابق ملک میں مصدقہ سائیکاٹرسٹس کی تعداد تقریباً 470 ہے اور صحت کے مجموعی بجٹ کا نصف فیصد سے بھی کم ذہنی صحت پر خرچ ہوتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کمی صرف سائیکاٹرسٹس تک محدود نہیں بلکہ نفسیاتی مشاورت، کمیونٹی خدمات، بحالی اور بنیادی مراکز صحت میں بروقت تشخیص بھی ضروری ہے۔
قومی ذہنی صحت پالیسی متعارف
وفاقی حکومت نے یکم اکتوبر 2026 کو پاکستان گلوبل مینٹل ہیلتھ سمٹ میں قومی ذہنی صحت پالیسی 2026–2035 متعارف کرائی۔ پالیسی کے تحت ذہنی صحت کی خدمات کو بنیادی صحت کے نظام میں شامل کرنے، کمیونٹی سطح پر معاونت بڑھانے اور بچوں و نوجوانوں پر خصوصی توجہ دینے کا اعلان کیا گیا ہے۔
وفاقی وزیر صحت سید مصطفیٰ کمال کے مطابق ذہنی صحت کے لیے حکومت، تعلیمی اداروں، خاندانوں اور معاشرے کو مشترکہ کردار ادا کرنا ہوگا۔ حکومت نے صوبوں کے ساتھ مل کر پالیسی پر عمل درآمد اور مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی پر بھی زور دیا ہے۔
پالیسی کی کامیابی کا انحصار مناسب بجٹ، تربیت یافتہ افرادی قوت اور قابلِ رسائی خدمات کی فراہمی پر ہوگا۔ ذہنی امراض سے متعلق بدنامی اور غلط فہمیوں کے خاتمے کے لیے آگاہی، خودکشی کی روک تھام، ماہرین کی تربیت اور کم آمدنی والے افراد کے لیے سستی یا مفت خدمات کو بھی ترجیح دینا ضروری ہے