خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ ماڈل اسکولوں کا خواب ادھورا کیوں رہ گیا؟

تیمور خان

خیبر پختونخوا میں وزیراعلیٰ ماڈل اسکولوں کا منصوبہ کھٹائی میں، کنسلٹنٹ کی بھرتی کا اشتہار
روک دیا گیا

خیبر پختونخوا کے سرکاری اسکولوں میں مزید 8 سے 9 لاکھ بچوں کو داخل کرنے کی گنجائش موجود ہونے کے باوجود ہر ضلع میں وزیراعلیٰ ماڈل اسکول قائم کرنے کا منصوبہ تاحال عملی شکل اختیار نہیں کر سکا، جبکہ مجوزہ اسکولوں کے لیے موزوں مقامات کے انتخاب کی غرض سے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کے لیے تیار کردہ اشتہار بھی روک دیا گیا ہے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صوبے میں 34 ہزار 784 سرکاری اسکول موجود ہیں، جہاں تقریباً 59 لاکھ بچے زیرِ تعلیم ہیں۔ محکمہ تعلیم کے حالیہ سروے سے منسوب معلومات کے مطابق موجودہ اسکولوں میں مزید 8 سے 9 لاکھ بچوں کو داخلہ دینے کی گنجائش موجود ہے۔

دوسری جانب محکمہ تعلیم نے ساڑھے چار ہزار سرکاری اسکولوں کو مرحلہ وار آؤٹ سورس کرنے کی منصوبہ بندی بھی کر رکھی ہے، جن میں سے تقریباً 500 اسکول آؤٹ سورس کیے جا چکے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سالانہ ترقیاتی پروگرام کی تیاری کے دوران محکمہ تعلیم نے اُس وقت کے وزیراعلیٰ کو پشاور یا نوشہرہ میں ایچی سن کالج کی طرز پر ایک معیاری تعلیمی ادارہ قائم کرنے کی تجویز دی تھی، جس پر ابتدائی طور پر 8 ارب روپے خرچ ہونے کا تخمینہ لگایا گیا تھا۔ تاہم وزیراعلیٰ نے اس تجویز کے بجائے ہر ضلع میں وزیراعلیٰ ماڈل اسکول قائم کرنے کی ہدایت دی۔

بعدازاں محکمہ تعلیم نے منصوبے کو تمام اضلاع میں بیک وقت شروع کرنے کے بجائے پائلٹ پراجیکٹ کے طور پر آگے بڑھانے کی تجویز دی۔ منصوبہ بندی کے مطابق پہلے مرحلے میں 7 جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 20 اسکول قائم کرنے کی تجویز زیرِ غور آئی۔

مجوزہ مقامات میں خیبر اور ہری پور میں دو، دو اسکول قائم کرنے کے علاوہ کوہاٹ، نوشہرہ اور ملاکنڈ میں بھی اسکولوں کے قیام کی تجویز شامل تھی۔

نئے اسکولوں پر اربوں روپے خرچ ہونے کا تخمینہ

مجوزہ وزیراعلیٰ ماڈل اسکول چھٹی سے بارہویں جماعت تک کے طلبہ و طالبات کے لیے قائم کیے جانے تھے۔ دستاویزات کے مطابق اگر ان اسکولوں کے لیے نئی عمارتیں تعمیر کی جاتیں تو ہر اسکول کے لیے تقریباً 200 کنال اراضی درکار ہوتی، جبکہ فی اسکول تعمیراتی لاگت کا تخمینہ 3 ارب روپے لگایا گیا تھا۔

اس کے برعکس، اگر پہلے سے موجود عمارتوں کو استعمال کیا جاتا تو ان کی تزئین و آرائش اور ضروری سہولیات کی فراہمی پر فی اسکول تقریباً 10 کروڑ روپے خرچ کرنے کی تجویز دی گئی تھی۔

اسکولوں کے انتخاب کے لیے سخت شرائط

دستاویزات کے مطابق مجوزہ اسکولوں کے لیے موزوں مقامات کے انتخاب کی غرض سے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کی جانی تھیں۔ مجوزہ شرائط کے تحت اسکول آبادی سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر ہونا چاہیے تھا، جبکہ اس کے قریب کم از کم دو پرائمری اسکولوں کی موجودگی بھی ضروری قرار دی گئی تھی۔

اسی طرح پانچویں جماعت میں لڑکوں کے اسکول کے لیے کم از کم 35 طلبہ اور لڑکیوں کے اسکول کے لیے کم از کم 25 طالبات کے داخلے کی شرط تجویز کی گئی تھی۔ مزید یہ کہ مجوزہ مقام سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر کوئی دوسرا سیکنڈری اسکول موجود نہ ہونے کی شرط بھی شامل تھی۔

عام سرکاری اسکولوں سے مختلف نظامِ تعلیم کی تجویز

منصوبے کے تحت وزیراعلیٰ ماڈل اسکولوں کو بورڈ آف گورنرز یا بورڈ آف ڈائریکٹرز کے ذریعے چلانے کی تجویز دی گئی تھی۔ ان اداروں میں اساتذہ کے تبادلوں کو بھی دوسرے ماڈل اسکولوں تک محدود رکھنے، جبکہ نصاب اور طریقۂ تدریس کو عام سرکاری اسکولوں سے مختلف بنانے کی منصوبہ بندی کی گئی تھی۔

ذرائع کے مطابق منصوبے کے لیے کنسلٹنٹ کی خدمات حاصل کرنے کی غرض سے اشتہار تیار کر لیا گیا تھا، تاہم اسے روک دیا گیا۔ اشتہار روکنے کی وجوہات اور منصوبے پر آئندہ پیش رفت کے بارے میں سرکاری مؤقف سامنے نہیں آ سکا۔

اس معاملے پر مؤقف جاننے کے لیے سیکریٹری تعلیم عنایت وسیم سے متعدد بار رابطے کی کوشش کی گئی، تاہم ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے