سی این جی بندش اور مہنگے ایندھن نے پشاور کے ڈرائیوروں کی زندگی کیسے بدلی؟

AI Image

احمد الیاس

پشاور میں ٹیکسی، ییلو کیب اور رکشہ چلانے والے بہت سے ڈرائیوروں کے لیے مہنگا ایندھن صرف بڑھتا خرچ نہیں بلکہ روزگار اور گھریلو معیشت کا مسئلہ بنتا جا رہا ہے۔ سی این جی بندش اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے کے بعد کئی ڈرائیور کم آمدنی، زیادہ کام اور بڑھتے مالی دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں۔

جامعہ پشاور کے شعبۂ اکنامکس اور ڈیولپمنٹ انسائٹس لیب (DIL) کی ایک نئی تحقیقی رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اس بحران نے نہ صرف ڈرائیوروں کی خالص آمدنی میں نمایاں کمی کی بلکہ خیبرپختونخوا جیسے گیس پیدا کرنے والے صوبے میں توانائی کے استعمال اور پالیسیوں سے متعلق کئی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں۔

یہ تحقیق جامعہ پشاور کے شعبۂ اکنامکس کے ایسوسی ایٹ پروفیسر، ڈیولپمنٹ انسائٹس لیب (DIL) کے کوآرڈینیٹر و سینئر ریسرچ فیلو ڈاکٹر سجاد احمد جان نے ریسرچ ایسوسی ایٹس انعام اللہ اور بلال یعقوب کے ہمراہ مکمل کی، جس میں پشاور کے ٹرانسپورٹ ڈرائیوروں پر سی این جی معطلی اور ایندھن بحران کے معاشی اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

عالمی کشیدگی سے پشاور کے ڈرائیور تک اثرات کیسے پہنچے؟

رپورٹ کے مطابق ایران، اسرائیل اور امریکہ کے درمیان کشیدگی اور آبنائے ہرمز کے گرد پیدا ہونے والی صورتحال کے باعث عالمی تیل منڈی متاثر ہوئی، جس کے نتیجے میں تیل کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا۔

تحقیق میں بتایا گیا کہ فروری سے مئی 2026 کے درمیان پاکستان میں پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہوا، جبکہ ایل این جی سپلائی میں رکاوٹ کے باعث ملک بھر میں سی این جی اسٹیشنز بند ہو گئے۔

چونکہ پشاور میں بڑی تعداد میں ٹیکسیاں اور رکشے سی این جی پر انحصار کرتے ہیں، اس لیے ڈرائیوروں کو مہنگا پیٹرول یا ایل پی جی استعمال کرنا پڑی، جس سے ان کے روزانہ اخراجات بڑھ گئے۔

ڈرائیوروں کی آمدنی میں کتنی کمی آئی؟

تحقیقی رپورٹ کے مطابق:

اوسط روزانہ آمدنی 3480 روپے سے کم ہو کر 2648 روپے رہ گئی
اوسط خالص آمدنی 2350 روپے سے کم ہو کر 1400 روپے تک گر گئی
روزانہ ٹرپس کی تعداد 11 سے کم ہو کر 7 رہ گئی
خالص آمدنی میں مجموعی طور پر 42.8 فیصد کمی ریکارڈ ہوئی

تحقیق کے مطابق بڑھتے اخراجات اور کم ہوتی آمدنی نے ڈرائیوروں کی معاشی صورتحال کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔

ڈرائیور بحران کا مقابلہ کیسے کر رہے ہیں؟

رپورٹ میں کہا گیا کہ معاشی دباؤ سے نمٹنے کے لیے بیشتر ڈرائیوروں نے اپنے طریقے بدل لیے ہیں۔

تحقیق کے مطابق:

72 فیصد سے زائد ڈرائیوروں نے کرایوں میں اضافہ کیا
68 فیصد نے زیادہ گھنٹے کام کرنا شروع کیے
بعض نے گھریلو اخراجات کم کیے
بہت کم افراد اضافی روزگار یا بچت سے حالات کا مقابلہ کر سکے

محققین کے مطابق اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ زیادہ تر ڈرائیور بوجھ خود برداشت کرنے کے بجائے کرایوں یا اضافی محنت کے ذریعے حالات سے نمٹ رہے ہیں۔

اثر صرف آمدنی پر نہیں، زندگی پر بھی پڑا

تحقیق کے مطابق بیشتر ڈرائیوروں نے اپنی زندگیوں پر اس بحران کے اثرات کو”زیادہ یا "بہت زیادہ” قرار دیا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ بڑھتے ایندھن اخراجات صرف کمائی کو متاثر نہیں کر رہے بلکہ گھریلو فلاح، معیارِ زندگی اور شہری آمدورفت پر بھی اثر ڈال رہے ہیں۔

گیس پیدا کرنے والا صوبہ، پھر بھی توانائی بحران کیوں؟

رپورٹ میں ایک اہم نکتہ یہ بھی اٹھایا گیا کہ خیبرپختونخوا خود قدرتی گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہے۔

تحقیق کے مطابق:

صوبہ روزانہ تقریباً 349 ملین مکعب فٹ گیس پیدا کرتا ہے
مقامی طلب تقریباً 185 ملین مکعب فٹ ہے

یعنی صوبہ اپنی ضرورت سے زائد گیس پیدا کرتا ہے، تاہم اس کے باوجود ٹرانسپورٹ شعبہ توانائی بحران اور مہنگے ایندھن کے مسائل سے دوچار ہے۔

محققین کے مطابق یہ صورتحال توانائی کی تقسیم، پالیسی سازی اور مقامی ضروریات سے متعلق سوالات پیدا کرتی ہے۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اگر ایندھن بحران اور ٹرانسپورٹ شعبے کے مسائل پر بروقت توجہ نہ دی گئی تو اس کے اثرات صرف ڈرائیوروں تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ شہری معیشت، ٹرانسپورٹ نظام اور عام لوگوں کی روزمرہ زندگی بھی مزید متاثر ہو سکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے