پاکستان کی معیشت میں بتدریج بہتری، اسباب کیا ہیں؟

ریاض حسین

پشاور: پاکستان کی معیشت نے مالی سال 2025-26 کے دوران بتدریج بحالی کے واضح آثار دکھانا شروع کر دیے ہیں،
جہاں صنعتی اور خدماتی شعبوں کی بہتر کارکردگی کے باعث ملکی معیشت کا حجم بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار بدھ کے روز نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی (این اے سی) کے اجلاس میں پیش اور منظور کیے گئے۔

کمیٹی کے مطابق رواں مالی سال میں مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کی شرح نمو عارضی طور پر 3.7 فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے، جو اگرچہ حکومتی ہدف 4 فیصد سے کم ہے، تاہم گزشتہ مالی سال کی 3.18 فیصد شرح نمو کے مقابلے میں اسے ایک مثبت معاشی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کے مطابق ملکی معیشت کا مجموعی حجم گزشتہ برس کے 410 ارب ڈالر سے بڑھ کر 452.1 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جبکہ فی کس آمدنی بھی 1,824 ڈالر سے بڑھ کر 1,901 ڈالر ہو گئی ہے۔

اسلام آباد میں منعقدہ نیشنل اکاؤنٹس کمیٹی کے اجلاس میں مالی سال 2025-26 کی ابتدائی دو سہ ماہیوں کی شرح نمو میں بھی اضافہ کیا گیا۔ پہلی سہ ماہی کی شرح نمو 3.63 فیصد سے بڑھا کر 3.92 فیصد جبکہ دوسری سہ ماہی کی شرح نمو 3.89 فیصد سے بڑھا کر 4.05 فیصد کر دی گئی۔ تیسری سہ ماہی میں معیشت نے عارضی طور پر 3.99 فیصد ترقی ریکارڈ کی۔

صنعتی شعبہ معیشت کی بحالی میں سب سے نمایاں کردار ادا کرتا دکھائی دیا، جہاں مجموعی طور پر 3.51 فیصد ترقی ریکارڈ کی گئی۔ بڑے پیمانے کی صنعتوں میں 6.11 فیصد اضافہ ہوا، جس میں آٹوموبائل، پیٹرولیم مصنوعات، برقی آلات، ٹرانسپورٹ سازوسامان اور خوراک کی صنعتوں کی پیداوار میں اضافہ شامل ہے۔

تعمیراتی شعبے نے بھی بہتر کارکردگی دکھاتے ہوئے 5.73 فیصد ترقی کی، جس کی وجہ سرکاری و نجی ترقیاتی منصوبوں میں اضافہ اور تعمیراتی سرگرمیوں کا پھیلاؤ بتایا جا رہا ہے۔

دوسری جانب بجلی، گیس اور پانی کی فراہمی کے شعبے میں 10.63 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی، جبکہ معدنیات اور کان کنی کے شعبے میں قدرتی گیس اور خام تیل کی کم پیداوار کے باعث معمولی بہتری دیکھی گئی۔

زرعی شعبے نے مجموعی طور پر 2.89 فیصد ترقی کی۔ گندم، گنے اور چاول کی پیداوار میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جبکہ کپاس اور مکئی کی پیداوار میں معمولی کمی سامنے آئی۔ مویشی پالنے کے شعبے نے 3.75 فیصد ترقی کرتے ہوئے دیہی معیشت کو سہارا فراہم کیا۔

خدمات کا شعبہ، جو ملکی معیشت کا سب سے بڑا حصہ تصور کیا جاتا ہے، 4.09 فیصد بڑھا۔ اطلاعات و مواصلات، تعلیم، صحت، پبلک ایڈمنسٹریشن اور تھوک و پرچون تجارت کے شعبوں نے اس ترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

ماہرین معاشیات کے مطابق حالیہ اعداد و شمار اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ پاکستان کی معیشت مہنگائی، روپے کی قدر میں کمی اور صنعتی سست روی کے بعد بتدریج استحکام کی جانب بڑھ رہی ہے، تاہم بڑھتی مہنگائی اور آبادی کے دباؤ کے باعث عام شہریوں کو اس معاشی بہتری کے اثرات ابھی مکمل طور پر محسوس نہیں ہو رہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے