سی بی این 247
خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب دہشت گردوں کے بڑے حملے میں کم از کم 15 پولیس اہلکار شہید جبکہ 3 زخمی ہو گئے۔ حملہ آوروں نے فتح خیل پولیس پوسٹ کو بارود سے بھری گاڑی کے ذریعے نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں زور دار دھماکے سے پوری چوکی تباہ ہو گئی۔
ریجنل پولیس آفیسر (RPO) بنوں سجاد خان کے مطابق حملے کے وقت پولیس پوسٹ میں مجموعی طور پر 18 اہلکار موجود تھے۔ دھماکے کے فوری بعد دہشت گردوں نے مختلف اطراف سے شدید فائرنگ شروع کر دی، جبکہ حملے میں جدید ہتھیاروں اور کواڈ کاپٹرز کے استعمال کی بھی اطلاعات ہیں۔
پولیس ذرائع کے مطابق دھماکے کی شدت اتنی زیادہ تھی کہ پولیس پوسٹ مکمل طور پر منہدم ہو گئی اور وہاں موجود بکتر بند گاڑی بھی تباہ ہو گئی۔ قریبی عمارتوں کو بھی شدید نقصان پہنچا، جبکہ علاقے میں خوف و ہراس پھیل گیا۔

ریسکیو 1122 نے اتوار کی صبح ملبے تلے دبے اہلکاروں کو نکالنے کا آپریشن مکمل کیا۔ ترجمان ریسکیو کے مطابق 15 لاشیں اور 3 زخمی اہلکار ملبے سے نکالے گئے۔
حملے کے بعد بنوں پولیس نے آر پی او سجاد خان کی قیادت میں سرچ آپریشن شروع کر دیا جبکہ شہر بھر میں سیکیورٹی سخت کر کے اضافی چیک پوسٹیں قائم کر دی گئی ہیں۔ مقامی شہریوں نے بھی قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کیا۔
خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع، خصوصاً بنوں، میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں نمایاں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ پولیس، سیکیورٹی فورسز اور مقامی عمائدین پر مسلسل حملوں نے امن و امان کی صورتحال کو سنگین بنا دیا ہے، جس کے باعث صوبے میں سیکیورٹی حکمتِ عملی پر نئے سوالات اٹھنے لگے ہیں۔