افغان شہری امین الحق نے اقوام متحدہ اور امریکہ کی بلیک لسٹ سے نام نکالنے کی درخواست کی

کابل — امین الحق، جو ڈاکٹر امینی کے نام سے بھی جانے جاتے ہیں، نے اقوام متحدہ اور امریکہ کی دہشت گردوں کی بلیک لسٹ سے اپنا نام نکالنے کی اپیل کی ہے۔

ننگرہار صوبے سے تعلق رکھنے والے اس افغان شہری کو دوہزار کی دہائی کے اوائل میں القاعدہ اور اس کے سابق رہنما اسامہ بن لادن سے مبینہ تعلقات کے شبہے میں پابندیوں کا سامنا کرنا پڑا۔

ڈاکٹر امینی کو کئی سال تک پاکستان، افغانستان اور قطر میں پوچھ گچھ کے لیے حراست میں رکھا گیا۔ وہ گزشتہ سال پاکستان میں پنجاب کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کے ہاتھوں گرفتار ہوئے تھے، لیکن ثبوت نہ ملنے پر بعد میں رہا کر دیے گئے۔

رہائی کے باوجود ان کا نام بین الاقوامی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے، جس کی وجہ سے ان کی نقل و حرکت اور مالیاتی رسائی محدود ہے۔

حالیہ درخواست میں، امین الحق نے اپنی بے گناہی کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ بغیر فردِ جرم حراست نے ان کے خاندان کو شدید نفسیاتی اور مالی نقصان پہنچایا۔ ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ مسلسل بلیک لسٹ میں شامل رکھنا بین الاقوامی انسانی حقوق کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

اقوام متحدہ کی پابندیوں کی کمیٹی کے مطابق، امین الحق اسامہ بن لادن کے سابق سیکیورٹی کوآرڈینیٹر رہ چکے ہیں اور القاعدہ کی کارروائیوں کی حمایت میں ملوث تھے۔ اسامہ بن لادن 2011 میں ایبٹ آباد، پاکستان میں امریکی کارروائی کے دوران ہلاک ہوا تھا۔

امین الحق کا کیس یہ ظاہر کرتا ہے کہ 9/11 کے بعد کے انسداد دہشت گردی کے اقدامات کا اثر کس طرح برسوں تک رہتا ہے، اور مشتبہ افراد دہائیوں بعد بھی پابندیوں کا سامنا کرتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے