سی بی این رپورٹ
پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) نے اعلان کیا ہے کہ اگر اتوار 8فروری تک سلیکشن بورڈ اجلاس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تو پیر 9فروری سے جامعہ میں تدریسی، امتحانی ڈیوٹیوں سے بائیکاٹ کا آغاز کرینگے۔
بدھ کو پیوٹا کمیونٹی سینٹر میں منعقدہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے پیوٹا کے صدر ڈاکڑ ذاکر اللہ جان نے کہا کہ خیبر پختونخوا کی اولین یونیورسٹی جامعہ پشاور طویل عرصے سے مالی اور انتظامی بحرانون کا شکار ہے، 18ویں ترمیم کے بعد جامعات صوبوں کے انتظامی تحویل میں آئے ہیں لیکن خیبر پختونخوا میں بدقسمتی سے صوبائی حکومت اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کر رہا،
انہوں نے کہا کہ صورتحال اس قدر خراب ہے کہ شائد جامعہ کے پاس ملازمین کی مارچ کی تنخواہوں کے لئے بھی پیسے نہ ہو، اگلے دو تین مہینے جامعہ کے لئے بہت بھاری ہیں، صوبائی حکومت ذمہ داری کا احساس کرے اور جامعہ کے لئے خصوصی گرانٹ جاری کرے تاکہ تنخواہوں اور پنشن کی مد میں مسائل حل ہوں۔
انہوں نے کہا کہ جامعہ اپنے زرائع سے ساڑھے تین ارب روپے اکٹھا کرتی ہے جبکہ یونبیورسٹی کا کل بجٹ سات ارب روپے ہے، اور جب تک صوبائی حکومت جامعہ پشاور کے مالی مسائل کے حل کے لئے اپنی ذمہ داری پوری نہیں کرتی، طلبہ پر مالی بوجھ بڑھتی رہی گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ مالی بحران کے ساتھ ساتھ جامعہ پشاور میں انتطامی بحران بھی عروج پر ہے، کئی سالوں سے سلیکشن بورڈ کا انعقاد نہیں ہوا جس کی وجہ سے 225اساتذہ کی پوسٹیں خالی ہیں، اج جامعہ پشاور میں طلبہ کی تعداد 20 ہزار جبکہ ان کو پڑھانے کے لئے اساتذہ 480ہیں، صوبائی حکومت مالی معاملات میں تو جامعہ کو خود مختار قرار دیتی ہے لیکن انتظامی معاملات میں یونیورسٹی کو ازادانہ فیصلے سے روک رہی ہے، اور سلیکشن بورڈ اجلاس کے لئے این او سی جاری نہیں کر رہی ہے،
پیوٹا صدر نے اعلان کیا کہ اگر اتوار تک سلیکشن بورڈ اجلاس کی تاریخ کا اعلان نہیں کیا گیا تو جامعہ پشاور کے اساتذہ پیر 9فروری سے تدریسی، امتحانی سمیت ہر قسم کی ذمہ داریوں کا بائیکاٹ کرینگے، پریس کانفرنس میں پیوٹا کے سابق صدر ڈاکٹر عزیز اور دیگر عہدیدار بھی موجود تھے۔
پشاور یونیورسٹی ٹیچرز ایسوسی ایشن (پیوٹا) نے صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم خیبرپختونخوا پر جامعہ پشاور کے انتظامی اور اندرون معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا ہے۔
پیوٹا کے صدر ڈاکٹر زاکر اللہ اور سابق صدر ڈاکٹر محمد عزیر نے گزشتہ روز پریس کانفرنس کے موقع پر صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ محکمہ اعلیٰ کی مداخلت اس قدر بڑھی ہے کہ جامعہ کے اندر مختلف ڈپارٹمنٹس کے چیرپرسنز کے تقرر میں مداخلت ہورہی ہے،انہوں نے کہا کہ جب ہم صوبائی حکومت سے فنڈز کی فراہمی کا مطالبہ کرتے ہیں تو ہمیں کہا جاتا ہے کہ یونیورسٹی خود مختار ادارہ ہے خود اپنے لئے وسائل پیدا کرے، لیکن دیگر معاملات میں صوبائی وزیر اعلیٰ تعلیم اور محکمہ اعلیٰ تعلیم جامعہ کے معاملات میں مداخلت کو اپنا حق سمجھتے ہیں۔