انجینئر عبدالولی یوسفزئی
زرغون تحریک کی جامع تحقیقاتی رپورٹ
زرغون تحریک کی ایک جامع اور بین الاقوامی معیار کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق پاکستان 1947 سے 2025 تک قدرتی وسائل کی مسلسل اور سنگین تباہی کے نتیجے میں ایک مکمل ماحولیاتی ایمرجنسی میں داخل ہو چکا ہے۔ پانی، جنگلات، زرعی زمین، صاف ہوا، جنگلی حیات، پہاڑ اور دریا—سب غیر سائنسی پالیسیوں، بدانتظامی، کرپشن، غیر قانونی تعمیرات اور ریاستی اداروں کی ناکامی کے باعث شدید خطرات سے دوچار ہیں۔
اقوام متحدہ، ورلڈ بینک، WHO، FAO، UNEP اور WWF کے تازہ اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر فوری اور فیصلہ کن اقدامات نہ کیے گئے تو پاکستان کی ماحولیاتی، غذائی اور آبی سلامتی ناقابلِ تلافی نقصان سے دوچار ہو سکتی ہے۔
پانی کا بحران:
رپورٹ کے مطابق 1947 میں فی کس پانی کی دستیابی تقریباً 5,500 مکعب میٹر تھی جو 2025 میں کم ہو کر 900 تا 1,100 مکعب میٹر رہ گئی ہے، جس کے ساتھ ہی پاکستان باضابطہ طور پر Water-Scarce Country بن چکا ہے۔ صرف 30 دن کی آبی ذخیرہ صلاحیت، ڈیموں کی سلٹنگ، گلیشیئرز کے تیز پگھلاؤ اور زیرِ زمین پانی کی خطرناک کمی بحران کو مزید گہرا کر رہی ہے۔ ہر سال تقریباً 46 ملین ایکڑ فٹ پانی سمندر میں ضائع ہو رہا ہے جبکہ 80 فیصد آبادی کو صاف پانی میسر نہیں۔
جنگلات کی تیز رفتار کٹائی:
1992 میں پاکستان کے جنگلات 3.78 ملین ہیکٹر تھے جو 2025 میں گھٹ کر 3.09 ملین ہیکٹر رہ گئے—صرف 33 سال میں 18 فیصد کمی۔ غیر قانونی کٹائی، آگ اور مافیا سرگرمیوں کے باعث سوات، ہزارہ، مری، سابقہ فاٹا، چترال اور بلوچستان کے قیمتی جنگلات شدید متاثر ہوئے، جس کے نتیجے میں سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور جنگلی حیات کے خاتمے میں اضافہ ہوا۔
زرعی زمین اور غذائی سلامتی:
ہاؤسنگ سوسائٹیز، صنعتی زونز اور آلودگی نے 2000 کے بعد لاکھوں ایکڑ زرعی زمین تباہ کر دی۔ رپورٹ خبردار کرتی ہے کہ اگر یہی رجحان جاری رہا تو 2040 تک زرعی پیداوار میں 30 فیصد کمی ہو سکتی ہے۔ زرغون تحریک کے مطابق زرعی زمین پر ہاؤسنگ کی اجازت “قومی خودکشی” کے مترادف ہے۔
فضائی آلودگی اور صحت:
لاہور، کراچی، پشاور، فیصل آباد اور گوجرانوالہ دنیا کے آلودہ ترین شہروں میں شامل ہیں جہاں PM2.5 کی سطح WHO معیار سے آٹھ گنا زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں سانس، دل اور کینسر جیسی بیماریاں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔ آلودہ پانی کے باعث سالانہ 50 ہزار بچے جاں بحق ہو جاتے ہیں جبکہ XDR ٹائیفائیڈ، ہیضہ اور ہیپاٹائٹس جیسی بیماریاں لاکھوں افراد کو متاثر کر رہی ہیں۔
ادارہ جاتی ناکامی اور قانونی خلاف ورزیاں:
رپورٹ میں WAPDA، IRSA، وزارتِ موسمیاتی تبدیلی، EPA/صوبائی EPAs اور ترقیاتی اتھارٹیز پر شدید تنقید کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ EIA/IEE پر عملدرآمد، واٹر ٹریٹمنٹ اور ہاؤسنگ نگرانی میں سنگین ناکامیاں ہیں۔ پاکستان کی جانب سے متعدد عالمی کنونشنز اور ملکی قوانین—بشمول آئین پاکستان اور Environmental Protection Act 1997—کی خلاف ورزیاں بھی رپورٹ کا حصہ ہیں۔
مطالبات اور اپیل:
زرغون تحریک مطالبہ کرتی ہے کہ:
تمام ہاؤسنگ سوسائٹیز فوری واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس نصب کریں،
زرعی زمین پر تعمیرات پر مکمل پابندی عائد کی جائے،
خلاف ورزیوں پر فوجداری کارروائیاں ہوں،
1947 تا 2025 ماحولیاتی ڈیٹا عدالت میں جمع کرایا جائے اور
ایک بااختیار جوڈیشل کمیشن قائم کیا جائے۔
اختتام پر انجینئر عبدالولی یوسفزئی نے خبردار کیا:
“اگر پاکستان کو بچانا ہے تو آج فیصلہ کرنا ہوگا۔ کل بہت دیر ہو جائے گی۔ یہ رپورٹ پوری قوم کے لیے آخری انتباہ ہے۔