رپورٹ (CBN247)
.قومی وطن پارٹی کے چیئرمین آفتاب احمد خان شیرپاؤنے ورلڈ بنک کی جانب پاکستان میں غربت کے حوالے سے حالیہ رپورٹ کے اعداد و شمار پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ صحیح معنوں میں معیشت کی بحالی کیلئے اقدامات کرے تاکہ اس کے ثمرات عوام تک پہنچ سکیں۔انھوں نے کہا کہ اگرچہ حکومت معیشت کی بہتری کے دعوے کر رہی ہے لیکن زمینی حقائق اس کے برعکس ہیں۔
رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ملک میں غربت کی شرح میں سات فیصد جبکہ خیبر پختونخوا میں 29.5فیصد اضافہ رپورٹ کیا گیا ہے جوکہ ایک تشویش ناک امر ہے۔
ان خیالات کا اظہار انھوں نے تحصیل تنگی میں حلقہPK-62کے ورکرز کنونشن سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔اس موقع پر قومی وطن پارٹی کے صوبائی چیئرمین سکندر حیات خان شیرپاؤسمیت ضلعی اور مقامی رہنماؤں نے بھی خطاب کیاجبکہ پارٹی کارکن کثیر تعداد میں موجود تھے۔
آفتاب شیرپاؤ نے کہا کہ غریب عوام اپنے بچوں کو دو وقت کی روتی دینے سے بھی لاچار ہیں لہٰذا وفاقی اور صوبائی دونوں حکومتوں کو سیاست سے بالاتر ہوکر صحیح معنوں میں عوام کی فلاح و بہبود اوران کو مہنگائی کے اثرات سے دور رکھنے کیلئے ٹھوس اقدامات کرنے ہوں گے۔
انھوں نے کہا کہ حالیہ برسوں میں لاکھوں لوگ غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔صوبے میں امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال اور دہشت گردی کے پے در پے واقعات کو صوبائی حکومت کی نااہلی قرار دیتے ہوئے انھوں نے کہا کہ اس سے عوام اور پولیس میں بے چینی پائی جاتی ہے۔
انھوں نے کہا کہ عوام عدم تحفظ کا شکار ہیں کیونکہ صوبے کے کئی علاقوں بشمول جنوبی اور ضم شدہ قبائلی اضلاع میں غروب آفتاب کے بعدشہری امن و امان کی خراب صورتحال کے باعث اپنے گھروں تک محدود ہوجاتے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبائی حکمرانوں کی بے حسی کا عالم یہ ہے کہ وہ دہشت گردی جیسے سنگین مسئلہ کے حل کی طرف کوئی توجہ نہیں دے رہے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے خیبر پختونخوا کے مختلف علاقوں میں حالیہ سیلابوں سے متاثرہ لوگوں کی بحالی کیلئے درکار اقدامات نہیں اٹھائے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکمرانوں کے پاس سیلاب زدگان کی بحال کی و آبادکاری کیلئے کوئی ٹھوس لائحہ عمل نہیں۔
انھوں نے مزید کہا کہ خراب طرز حکمرانی اور کرپشن نے صوبے کو مسائل کی دلدل میں دھکیل دیا ہے کیونکہ آئے روز بد عنوانی کے نت نئے سکینڈلز منظر عام پر آرہے ہیں۔
انھوں نے حکومت کی جانب سے سکولوں کی مجوزہ نجکاری کے عمل کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو بنیادی تعلیم کی فراہمی ریاست کی آئینی ذمہ داری ہے۔
انھوں نے کہا کہ لاکھوں بچے اس وقت تعلیم کے حصول سے محروم ہیں لہٰذا اس قسم کے اقدامات سے گریز