ریاض حسین
پاکستان میں اگست 2025 کے دوران مہنگائی کی مجموعی شرح میں واضح کمی دیکھنے میں آئی ہے، لیکن روزمرہ کی اشیاء — خصوصاً آٹا — اب بھی عام شہریو کی پہنچ سے باہر ہے۔

45 کلن اجمل خان گھریلو اشیاء خریدنے کیلئے بازار آئے ہیں ان کا کہنا ہے کہ پچھلے مہینے 20 کلو کا آٹا 1800 سے 1900 روپے میں خریدا لیکن آج ایسا کیا ہوا کہ اس کی قیمت 2500 روپے تک پہنچ گئی اجمل کہتا ہے کہ حکومت کا مہنگائی پر کوئی کنٹرول نہیں اور دکاندار اپنی مرضی سے بنیادی اشیا کی قیمتیں بڑھا رہے ہیں
پچھلے دنوں صوبائی وزیر خوراک ظاہر شاہ طورو کے زیر صدارت ایک اجلاس بھی بلایا گیا تاکہ صوبے میں خصوصی طور آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جاسکے ظاھر شاہ کا کہنا تھا
,,کہ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام کو سستے داموں بنیادی اشیاء کی فراہمی یقینی بنایا جاسکے ،،
میڈیا رپورٹس کے مطابق پنجاب حکومت نے خیبر پختونخوا کو آٹے کی ترسیل پر پابندی لگا دی ہے
پاکستان بیورو آف اسٹیٹکس (ادارہ شماریات) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق ماہِ اگست میں بنیادی مہنگائی (Core
Inflation) کی شرح 3 فیصد رہی جو جولائی کی 4.1 فیصد کے مقابلے میں نمایاں کمی ہے۔
پچھلے سال اگست میں یہی شرح 9.6 فیصد تھی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ مجموعی افراطِ زر میں کمی آئی ہے۔
تاہم دوسری جانب آٹے کی قیمتوں میں کوئی کمی دیکھنے کو نہیں ملی، بلکہ یہ قیمتیں ملک بھر میں بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہیں۔
ادارہ شماریات کے مطابق 20 کلو آٹے کے تھیلے کی اوسط قیمت 2500 روپے ہو چکی ہے۔
پشاور اور بنوں آٹے کے لحاظ سے ملک کے مہنگے ترین شہر قرار پائے، جہاں 20 کلو کا تھیلا 2500 روپے میں فروخت ہو رہا ہے۔
دیگر شہروں میں قیمتیں درج ذیل ہیں:
اسلام آباد: 2426.67 روپے
راولپنڈی / کراچی / حیدرآباد: 2400 روپے
گوجرانوالہ / سیالکوٹ: 2267 روپے
لاہور: 2230 روپے
فیصل آباد / سرگودھا / خضدار: 2200 روپے
ملتان: 2293.33 روپے
بہاولپور: 2333.33 روپے
سکھر: 2240 روپے
لاڑکانہ / کوئٹہ: 2300 روپے
ماہرین کے مطابق آٹے کی بڑھتی قیمتوں کی وجوہات میں گندم کی قلت، ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات اور مصنوعی قلت بھی شامل ہیں۔ اگر حکومت نے بروقت اقدامات نہ کیے تو قیمتیں مزید بڑھنے کا خدشہ ہے۔
عوام کا کہنا ہے کہ مہنگائی میں کمی کے سرکاری دعووں کے باوجود اشیائے خورونوش خاص طور پر آٹا، اب بھی غریب کی پہنچ سے باہر ہوتا جا رہا ہے۔ شہریوں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ آٹے سمیت دیگر بنیادی اشیاء کی قیمتوں کو فوری کنٹرول کیا جائے تاکہ مہنگائی میں کمی کا فائدہ عوام تک پہنچ سکے۔